کاہن اور نجومی

کاہن اور نجومی

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلیٰ غَیبِہِ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضیٰ مِنْ رسُوْلٍ(پارہ۲۹،رکوع۱۲)
ترجمہ: غیب جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
برادران اسلام اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے محبوب رسولوں کو علم غیب عطا فرمایا اس آیت کریمہ سے یہی ثابت ہے اور اولیاء کرام کو بھی اللہ تبارک و تعالیٰ علم غیب عطا فرماتا ہے اس کے علاوہ کسی کو علم غب نہیں ہوتا بعض کاہن اور نجومی علم غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ جھوٹے ہوتے ہیں احادیث کریمہ سے یہی ثابت ہے۔
حضور سید عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص کاہن کے پاس آئے اور اس سے پوچھے تو اس کی چالیس رات تک کوئی نماز قبول نہ ہوگی۔ سید نا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا جو شخص عراف یا کاہن کے پاس جائے اور اس کی کہی ہوئی باتوں کو سچ سمجھے اس نے محمد ﷺ پر نازل شدہ شریعت کے ساتھ کفر کیا۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ کاہنوں اور نجومیوں سے اس کی حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے درست ہے تاکہ سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہو سکے حضور سید عالم ﷺ نے ابن صیاد سے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا آتا ہے اس نے کہا میرے پاس سچا بھی آتا ہے اور جھوٹا بھی حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہیں کیا نظر آرہا ہے اس نے کہا مجھے پانی پر عرش نظر آتا ہے آپ نے فرمایا میں نے تمہارے لیے کچھ چھپایا ہے بتاؤ کیا ہے اس نے کہا دھواں ہے آپ نے فرمایا دور ہٹ تو اپنے رتبہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا تو کاہنوں کا بھائی ہے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ کاہن اور نجومی کبھی سچ بولتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بہت ساری باتوں کو بتاتے ہیں ان میں سے کوئی تو درست ہو جاتی ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہے کہ سرور کائنات ﷺ سے کاہنوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ان کی کوئی حقیقت نہیں صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ کوئی بات کہتے ہیں اور وہ صحیح ہو جاتی ہے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس صحیح بات کو جن اچک کر لاتا ہے اور اپنے کاہن دوست کے کان میں چھوڑ دیتا ہے پھر کاہن اس میں سو سے زیادہ جھوٹ کی آمیزش کرتا ہے۔