جنسی تعلیم

جنسی تعلیم

نِسَائُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاٰتُواْ حَرْثَکُمْ اَنّٰی شّئْتُمْ وَ قَدِّمُواْ لِاَنْفُسِکُمْ(پارہ۲،رکوع۱۲)
ترجمہ: تمہاری عورتیںتمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتوں میں جس طرح چاہو اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو۔
برادران اسلام قرآن ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور جنسی تعلقات بھی بقائے نسل انسانی کے لیے ضروری ہیں مگر اس کے کچھ ضابطے اور قواعد ہیں اگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو انسان و حیوان کا فرق مٹ جائے آیت مذکورہ میں بتایا گیا ہے کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں اس میں جس طرح سے چاہو آؤ کھیتی کی مثال دینے کا مقصد یہ ہے کہ اس میں نسل انسانی کا بیج بویا جائے آیت مذکور میں جس طرح آؤ سے کوئی یہ مراد نہیں لے سکتا کہ بیوی سے لواطت درست ہے لواطت کرنا اسی آیت کے خلاف عمل ہوگا کیونکہ اس سے حمل کا تصور نہیں کیا جا سکتا پھر کھیتی کا مفہوم کیسے ادا ہو سکتا ہے جنسی اختلاط کا مقصد افزائش نسل ہے جنسی تعلیم قرآن کے مطابق ہو تو انسان بے حیائی اور برائی دونوں چیزوں سے محفوظ رہ سکتا ہے اور متعدد جسمانی بیماروں سے بچ سکتا ہے اس پر عمل کرنے سے سماج میں بے حیائی فروغ نہیں پا سکتی سورۂ بقرہ میں ہے کہ ایسے لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ وہ ایک گندگی کی حالت ہے اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک وہ پاک و صاف نہ ہو جائیں سوۂ بقرہ میں دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے ’’جو شخص ان مقررہ مہینوں میں حج کی نیت کرے حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل کوئی بدکاری سرزد نہ ہو‘‘ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۸ میں ہے ’’تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیوی کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے وہ تمہارے لیے لباس ہے اور تم ان کے لیے لباس ہو اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ رات گزارو اور جو لطف اللہ نے تمہارے لیے جائز کر دیا ہے اسے حاصل کرو‘‘ سورہ طارق میں ارشاد ربانی ہے ’’تو چاہیے کہ آدمی غور کرے کہ کس چیز سے بنایا گیا ہے جست کرنے سے پانی سے جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینوں کے بیچ بیشک اللہ اس کے واپس کرنے پر قادر ہے‘‘ اور سورہ طلاق میں ہے’’اور تمہای عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہیں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک ہے تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی ان کا حکم ہے‘‘
پیارے دینی بھائیو! صحیح جنسی تعلیم انسان کے لیے ضروری ہے تاکہ جس طرح قدرت نے حکم دیا ہے اس پر عمل ہو سکے۔