امید
اُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌ بِالعِبَادِ فَوَقٰہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُواْ(پارہ۲۴،رکوع۱۰)
ترجمہ: اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے تو اللہ نے اسے بچا لیا ان کے مکر کی برائیوں سے۔
پیارے دینی بھائیو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت زیادہ مہربان ہے جو بندہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات سے کوئی آس لگاتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اسے پورا کرتا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سید المرسلین ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! تو نے جب بھی امید لگا کر دعا کی میں نے تیرے گناہ معاف کر دیے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کیسے ہیں اے انسان! اگر تیرے گناہ آسمان کے کنارے تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ بخشش مانگے تو میں تجھے بخش دوںگا اے انسان! اگر تو زمین بھر گنا کر کے میرے پاس آئے پھر مجھے سے اس حال میں ملاقات کرے کہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں زمین بھر مغفرت کے ساتھ تجھے ملوںگا۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے گناہوں کی وجہ بہت زیادہ خوفزدہ تھا آپ نے اس سے فرمایا مایوس مت ہو کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت گناہوں سے کہیں زیادہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ تم جانتے ہو یوسف کو میں نے تم سے کیوں جدا کیا؟ میں نے اس لیے جدا کیا تھا میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اس کو بھیڑیا کھا جائے گا تم بھیڑیے سے تو ڈرے لیکن میرے کرم کی امید نہ رکھی اور میری حفاظت کو اہمیت نہ دیتے ہوئے بھائیوں کی غفلت اور بے پروائی کی طرف تمہارا خیال گیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے بندہ مجھے اپنے گمان کے مطابق پاتا ہے اور وہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میری معیت اسے حاصل ہوتی ہے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کوئی شخص جنگل میں اپنی گمشدہ چیز پاکر خوش ہوتا ہے اور جو آدمی ایک بالشت میرے ساتھ میرے قریب آئے میری رحمت دو ہاتھ اس کے قریب ہوتی ہے جب وہ پیدل چل کر میری طرف آتا ہے تو میری رحمت دوڑ کر اس کی طرف بڑھتی ہے۔