چور
اَلسَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقْطَعُواْ اَیْدِیَہُمَا جَزَآئً بِمَا کَسَبَا نِکَالًا مِّنَ اللّٰہِ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہِ وَ اصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوْبُ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَحِیْمٌ(۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ترجمہ: چرانے والا مرد اور چرانے والی عورت ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ سزا ہے ان کے فعل کی اللہ کی طرف سے سرزنش ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے اور اگر ظلم کے بعد توبہ کر لے اور اپنی حالت درست کر لے تو بیشک اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
برادران اسلام چوری کرنا حرام ہے چور لوگوں کی نگاہوں سے گر جاتا ہے سماج اور معاشرہ میں اس کی کوئی عزت نہیں ہوتی اسلام میں چوری کرنے کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ چوری کرنا بہت ہی ذلیل کام ہے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فخر موجودات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ مدینہ منورہ آئے اور اپنی چادر کا تکیہ لگا کر مسجد میں سو گئے چورآیا اور ان کی چادر چرا کر بھاگا انہوں نے اسے پکڑا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں حاضر کیا آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا صفوان نے عرض کیا میرا یہ مطلب نہ تھا یہ چادر اس پر صدقہ ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا میرے پاس حاضر کرنے سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چور پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے کہ بیضہ چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر کیا اور کہا کہ اس کا ہاتھ کاٹیے کیونکہ اس نے میری بیوی کا آئینہ چرایا ہے حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا کہ یہ تمہارا خادم ہے جس نے تمہارا مال لیا ہے۔
برادران اسلام! چوری بہت بری عادت ہے گناہ کبیرہ ہے حرام کام ہے اس سے بچنا ضروری ہے ورنہ عذاب الٰہی کا مستحق ہوگا۔