بخیلی
وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاَسْتَغْنٰی وَ کَذَّبَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسرٰی وَمَا لَہٗ اِذَا تَرَدّٰی (پارہ۳۰، رکوع۱۷)
ترجمہ: اور جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا اور سب سے اچھی چیز کو جھٹلایا تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کر دیں گے اور اس کا مال اسکے کام نہ آئے گا جب ہلاکت میں پڑے گا۔
برادران اسلام قرآن و احادیث میں بخالت کی ممانعت آئی ہے راہ حق میں خرچ کرنے کا نام سخاوت ہے اور راہ خدا میں خرچ نہ کرنے کا نام بخالت ہے اگر کوئی شخص دنیا کے عیش و آرام میں لاکھوں روپیہ خرچ کرتا اور راہ خدا میں نہیں کرتا وہ بخیل کہلائے گا سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا ظلم سے بچو بیشک ظلم قیامت کے اندھیروں میں سے ہے اور بخل سے بچو کیونکہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو تباہ و برباد کیا ایک دوسرے ا ون اور محرمات کو حلال کرنے پر آمادہ کیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا سخی اللہ تبارک و تعالیٰ سے قریب ہے لوگوں سے قریب ہے اور دوزخ سے دور ہے اور بخیل اللہ تبارک و تعالیٰ سے دور ہے جنت سے دور ہے لوگوں سے دور ہے اور جہنم کے قریب ہے اور جاہل سخی خداوند قدوس کے نزدیک عبادت گزار بندے سے کہیں بہتر ہے۔
سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فخر موجودات سید المرسلین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ مکار اور بخیل جنت میں داخل نہیں ہوںگے اور نہ وہ شخص جو خیرات دے کر احسان جتائے۔ حضور سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم سمجھتے ہو کہ بخیل کی تعصیر معاف کر دی جائے گی اور ظالم کی تعصیر معاف نہ ہوگی حالانہ ظلم اللہ تبارک و تعالیٰ کے بزدیک بخل سے بہتر ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ بخیل کو جنت میں نہیں جانے دوںگا۔
سیدنا حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن میں دو باتیں یعنی بخل اور بدخلقی جمع نہیں ہوتیں۔
پیارے دینی بھائیو! ہمیں بخالت سے گریز کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے۔