چغل خور
ہَمَّازٍ مَّشَّائٍ بِنَمِیْمٍ (پارہ۲۹، رکوع۳)
ترجمہ: ذلیل بہت طعنے دینے والا ادھر اُدھر لگاتا پھرنے والا۔
برادران اسلام چغل خوری بہت بری چیز ہے اور حرام ہے چغل خور ایک دوسرے کو آپس میں لڑاتے ہیں اور فساد برپا کرتے ہیں ادھر کی بات ادھر لگانا اور ادھر کی بات ادھر لگانا چغل خوری ہے چغل خودی سے بچنا بہت ضروری ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید الکونین ﷺ نے ارشاد فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان دونوں کو عذاب قبر ہو رہا ہے اور انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ہے لیکن وہ بہت بڑا گناہ ہے ان میں سے ایک چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔
حضرت اسما بنت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایاکہ خدا وند قدوس کے بد ترین بندے وہ ہیں جو لوگوں میں چغلی کھاتے پھرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔
سیدنا حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا خبردار ہو جاؤ میں تم کو بتلاتا ہوں کہ بہتان کیا چیز ہے وہ چغلی ہے جو لوگوں میں عداوت ڈالے حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا کہ آدمی سچ بولتا ہے یہاں تک کہ خداوند قدوس کے نزدیک سچ لکھا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک جھوٹا لکھا جاتا ہے۔
پیارے دینی بھائیو! چغل خوری بہت بری عادت ہے حضرت مصعب ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک چغلی سننا چغل خوری سے بھی بدتر ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سلیمان بن عبد الملک نے ایک شخص سے دریافت کیا کہ کیا تو نے مجھے برا کہا ہے اس نے جواب دیا نہیں کہا ہے ابن عبد الملک نے کہا ایک عادل معتبر آدمی نے مجھ سے کہا ہے کہ تو مجھے برا کہتا ہے اس وقت وہاں امام زہری رحمۃ اللہ علیہ موجود تھے آپ نے فرمایا اے امیر المومنین ایک چغل خور کس طرح عادل ہو سکتا ہے یہ سن کر عبد المطلب نے کہا آپ نے سچ فرمایا اس شخص سے کہا یہاں سے رخصت ہو جاؤ ہمیں چغل خوری سے بچنا چاہیے کیونکہ چغل خوری حرام ہے۔