گالی گلوچ حرام

گالی گلوچ حرام

وَالَّذِیْنَ یُوْذُوْنَ الْمُوْمِنِیْنَ وَ الْمُوْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتسَبُواْ فَقَدِ احْتَمَلُوْ بُہْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا (پارہ۲۲، رکوع۴)
ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کیے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔
برادران اسلام آیت مذکورہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں نازل ہوئی منافقین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایذا دیتے تھے اور آپ کی شان اقدس میں بد گوئی کرتے تھے حضرت فضیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کتے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین چیز ہے۔
سید نا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کو گالی دینا اور ان سے لڑنا کفر ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فخر موجودات حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا آپس میں ایک دوسرے کو گالی دینے والے دو آدمیوں نے جو کچھ کیا اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہوتا ہے اگر مظلوم زیادتی نہ کرے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی دو جہاں ﷺ کے پاس ایک ایسے شخص کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی آپ نے فرمایا اسے مارو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم میں سے بعض نے اسے ہاتھ سے مارا بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے کپڑے سے جب وہ واپس چلا گیا تو کسی نے کہا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تجھے رسوا کر تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ایسا مت کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فخر دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص چاہتا ہے کہ اسے جہنم کی آگ سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو اسے اس حالت میں موت آئے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں سے وہ سلوک کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔
دینی بھائیو! گالی گلوچ کرنا اچھی بات نہیں اور کسی مسلمان بھائی کو گالی دینا حرام ہے سماج و معاشرہ میں گالی گلوچ کرنے والے اشخاص کو لوگ برا سمجھتے ہیں ان کا وقار بھی جاتا رہتا ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہرگز ہرگز گالی گلوچ نہ کریں۔