حسد

حسد

وَلَا تَتَمَنَّواْ مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلیٰ بَعْضٍ للِرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُواْ وَ لِلنِّسَائِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ وَاسْئَلُواْ اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَئیٍ عَلِیْمًا(پارہ۵، رکوع۲)
ترجمہ: اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تمہیں بڑائی دی مردوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور اللہ سے اس کا فضل مانگو بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
برادران اسلام حسد بہت بری چیز ہے قرآن و احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے حسد کرنے والا دوسرے کو اچھے حال میں دیکھتا تو اپنے لیے اس کی خواش کرتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا بھائی اس سے محروم ہو جائے یہ ممنوع ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ کی تقدیر پر راضی رہیں اس نے جس بندے کو جو نعمت دی یہ ان پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل و کرم ہے۔
سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء ﷺ نے اشاد فرمایا حسد سے اپنے آپ کو بچاؤ اس لیے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کو کھا جاتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فخر موجودات حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بندوں کے اعمال ہر ہفتہ دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں پیر اور جمعرات کو تو ہر بندے کی مغفرت ہو جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھتا ہو اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ باز آئیں۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک دوسرے کے ساتھ بغض و کینہ نہ رکھو اور نہ حسد رکھو ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی نہ کرو اور آپس میں قطع تعلق نہ کرو اور اے خدا کے بندو! آپس میں ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ تعلقات منقطع کرے۔
پیارے دینی بھائیو! ہمیں بغض و حسد سے بچنا چاہیے دونوں جہاں کی بھلائی اسی میں ہے حسد اور بغض رکھنا قرآن کے خلاف ہوگا دنیا میں بھی ہم دلی تکلیف میں رہیںگے اور آخرت میں بھی باعث گناہ ہے۔