تکبر
تِلْکَ الدَّارُ الآخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوّاً فِی الاَرْضِ وَلَا فَسَادً وَ الْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (پارہ۲، رکوع۱۲)
ترجمہ: یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔
برادران اسلام تکبر کرنا بری چیز ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کو تکبر بالکل پسند نہیں شیطان تکبر ہی کی وجہ سے ذلیل و خوار ہوا قرآن مقدس میں کئی جگہ تکبر کی مذمت اور ممانعت آئی ہے قرآن مقدس میں ارشاد ربانی ہے زمین میں اکڑ کر نہ چلو، ایک اور جگہ ارشاد خداوندی ہے اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑ کر نہ چل بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ کو کوئی تکبر کرنے والا فخر کرنے والا پسند نہیں۔ اس سلسلہ میں بہت ساری حدیثیں وارد ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا ایک شخص نے عرضـ کیا یا رسول اللہ ﷺ آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جوتی خوبصورت ہو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے تکبر انکار حق اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ دوزخی کون ہیں؟ ہر سرکش بدخلق اور تکبر کرنے والا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ فخر المرسلین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا جنت اور جہنم میں جھگڑا ہوا جہنم نے کہا مجھ میں سرکش اور تکبر کرنے والے لوگ داخل ہوںگے جنت نے کہا مجھ میں مزور اور مسکین لوگ داخل ہوںگے اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اے جنت! تو میری رحمت ہے میں تیرے سبب جس پر چاہوںگا رحم کروںگا اور اے جہنم! تو میرا عذاب ہے جسے چاہوںگا تیرے سبب عذاب دوںگا اور مجھے تم دونوں کو بھرنا ہے۔ حضور سید الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی تکبر کرتا ہے یہاں تک کہ سرکش لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے پس اسے وہی عذاب ہوگا جو ان لوگوں کو ہوگا۔
پیارے دینی بھائیو! ہمیں تکبر سے بچنا چاہیے، تکبر کرنا حرام ہے۔