تجارت
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لَا تَاکُلُواْ اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ (۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ترجمہ: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر باہمی رضا مندی سے تجارت ہو تو حرج نہیں۔
برادرن اسلام اس آیت مبارکہ میں تجارت کی ترغیب دی گئی ہے اور ناحق کسی کا مال کھانے سے منع فرمایا گیا ہے خداوند قدوس نے تجارت میں برکت رکھی ہے حضور تاجدار عرب و عجم ﷺ نے تجارت فرمائی ہے۔
حضرت ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا سچ بولنے تالا تاجر اور امانت دار انبیاء ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا تجارت کرنے والے بدکار ہیں لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے کاروبار کو حلال نہیں کیا ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہاں کاروبار حلال ہے لیکن یہ لوگ بات کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں اور قسم کھاتے ہیں اس میں جھوٹے ہوتے ہیں۔
حضرت ابو فتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سرور کائنات علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا کہ کاروبار میں قسم کی کثرت سے پرہیز کرو اگر چہ یہ چیز بکوا دیتا ہے مگر برکت کھو دیتا ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مصطفی جان رحمت ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے خریدنے اور تقاضے میں آسانی کرے۔
برادران اسلام تجارت بہت عمدہ اور نفیس کام ہے مگر اکثر تجارت کرنے والے اپنے کاروبار میں جھوٹ بولتے ہیں بلکہ بعض لوگ تو اپنے کاروبار میں جھوٹی قسمیں بھی کھا لیتے ہیں احادیث کریمہ میں تاکید آئی ہے کہ کاروبار میں جھوٹ نہ بولو اس سے برکت ختم ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بھی ہے اور گناہ بھی ہوتا ہے اگر تاجر چاہتا ہے کہ ان کے کاروبار میں برکت ہو تو ان کو چاہیے کہ جھوٹی باتوں سے اور بری باتوں سے گریز کرے بعض لوگ اپنے مال کے عیب کو چھپاتے ہیں یہ بھی سخت منع ہے اس کو دھوکہ دینا بتایا گیا ہے۔