سود، حرام ہے

سود، حرام ہے

یٰاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ لَا تَاکُلُواْ الرِّبٰوا اَضْعَافًا مُضِیْفَۃً وَاتَّقُواْ للّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ وَاتَّقُواْ النَّارَ (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ترجمہ: اے ایمان والو دونا دون سود مت کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ فلاح پاؤ اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار رکھی گئی ہے۔
برادران اسلام سود کی حرمت قرآن و حدیث سے ثابت ہے سود کھانے والوں کے لیے بہت وعیدیں آئی ہیں ہر مومن کو اس بری شئی سے دور رہنا چاہیے۔ سود لینے اور سود دینے دونوں کی ممانعت ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مصطفی جان رحمت ﷺ نے سود لینے او سود دینے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا سود کے گناہ کے ستر حصے ہیں ان میں سے سب کم درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے حضرت حنظلہ غیل اعلائکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا سود کا ایک درہم جس کو جان کر کوئی کھائے وہ چھتیس مرتبہ زنا سے بھی سخت ہے حضرت سمرہ بن حنذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا آج رات میں نے دیکھا کہ میرے پاس دو شخض آئے اور مجھے بیت المقدس لے گئے ہم چلے یہاں تک کہ خبد کے دریا پر پہنچے ایک شخص کنارہ پر کھڑا ہے جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور ایک شخص بیچ دریا میں ہے یہ کنارہ کی طرف بڑھا اور دریا سے نکلنا چاہا تو کنارے والے شخص نے ایک پتھر زور سے اس کے منھ پر مارا کہ جہاں تھا وہیں پہنچ گیا۔ پھر جتنی بار وہ نکلنا چاہتا تھا کنارے والا اس کے منھ پر پتھرم ار کر ویں پہنچا دیتا تھا میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کون شخص ہے تو جواب دیا جو شخص نہر میں ہے وہ سود خور ہے۔
پیارے دینی بھائیو! ہرگز ہرگز ہمیں سود میں ملوث نہیں ہونا چاہیے کون آدمی گوارہ کرے گا ہ اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے انسان تصور میں نہیں لاتا لیکن سود کا گناہ ماں سے زنا کرنے سے بھی زیادہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سبھوں کو سود کی لعنت سے محفوظ رکھے۔