عورت کا مہر
وَاٰتُوْا النِّسَائَ صَدْقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَئیٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُہُ ہَنِیْئاً مَّرِیْئًا(پارہ۴، رکوع۱۲)
ترجمہ: عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچنا بچنا۔
برادران اسلام آیت مذکورہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اپنی بیوی کا مہر ادا کرو مہر ادا کرنا ضروری ہے جس طرح قرض ادا کرنا ضروری ہے بعض لوگ اس کو ادا کرنا ضروری نہیں سمجھتے یہ ان کی غلط فہمی ہے یہ عورتوں کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کو مہر کا کچھ حصہ یا پورا بخش دیں انہیں مجبور کرنا یا ان کے ساتھ مہر معاف کرنے کے لیے بدخلقی سے پیش آنا درست نہیں کیونکہ آیت میں دل کی خوشی سے آیا ہوا ہے پھر جبر کرنا کیسے درست ہو سکتا لہذا حتی الامکان کوشش کریں کہ مہر اتنی مقدار میں ہو کہ آسانی کے ساتھ ادا کر سکیں حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا کہ حضور ﷺ کا مہر کتنا تھا تو آپ نے جواب دیا کہ سرور کائنات ﷺ کا مہر پانچ سو درہم تھا حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے نکاح کیا اور مہر کچھ مقرر نہیں ہوا تھا اور دخول سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ عورت کو مہر مثل ملے گا نہ کم نہ زیادہ اور اسی پر عدت ہے۔
حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سید المرسلین ﷺ نے اشاد فرمایا جو شخص نکاح کرے اور نیت یہ ہو کہ عورت کو مہر سے کچھ نہ دے گا تو وہ جس روز مرے گا زانی مرے گا برادران اسلام اس حدیث پاک سے ثابت ہو گیا کہ اگر کوئی مہر ادا نہ کرنے کی نیت کرتا ہے تو وہ اپنی بیوی سے زنا کرے گا آج کل لوگ بہت زیادہ مہر مقرر کر دیتے ہیں ان لوگوں کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ بیوی کو جلدی طلاق نہ دے مہر کی ادائیگی میں دشواری ہوگی اور طلاق نہیں دے گا بہت سے لوگ دل میں یہ خیال کرتے ہیں کہ کون ادا کرتا ہے چاہے جتنا مہر ہو قبول کر لو۔
پیارے دینی بھائیو! یہ خیال ہرگز نہ لائیں کہ ہمیں ادا نہیں کرنا ہے ورنہ آپ زنا کاری میں مبتلا ہو جائیں گے مہر تو آپ پر قرض ہے کیا آپ یہ نہیں چاہیںگے کہ آپ کا قرض ادا ہو جائے۔