حالت حیض میں صحبت حرام ہے

حالت حیض میں صحبت حرام ہے

وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہَرْنَ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ(۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ترجمہ: اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہو لیں پھر جب پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا۔
برادران اسلام حالت حیض میں بیوی سے صحبت کرنا ممنوع ہے آیت کریمہ میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ حیض کے دنوں میں عورتوں سے دور رہو یعنی ان سے جماع نہ کرو جب تک پاک نہ ہو جائیں اگر کوئی حالت حیض میں بیوی سے صحبت کرتا ہے تو وہ قرآن کے خلاف کرتا ہے عرب کے لوگ حالت حیض میں عورتوں سے نفرت کرتے تھے کھانا پینا اور ایک مکا ن میں رہنا گوارہ نہیں کرتے تھے اور ان سے گفتگو کرنا بھی حرام سمجھتے تھے تاریخ میں آیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو حالت حیض میں جنگل میں جا کر چھوڑ دیا کرتے تھے کھانے پینے کا سامان وغیرہ وہیں مہیا کرتے پھر حیض سے پاک ہونے کے بعد اپنے گھروں میں واپس بلاتے اور مضاریٰ کی یہ عادت تھی کہ حالت حیض میں عورتوں سے زیادہ قربت کرتے اور جماع میں مبالغہ کرتے تھے مسلمانوں نے حضور اقدس ﷺ سے حیض کا حکم دریافت کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اعتدال کا حکم دیا گیا یعنی ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں ساتھ رہ سکتے ہیں لیکن صحبت نہیں کر سکتے۔
حالت حیض سے جماع سے روکے جانے کے بہت سے فوائد ہیں مرد عورت دونوں کو جسمانی نقصان ہو سکتا ہے طبی اعتبار سے جنسی بیماریوں لاحق ہو سکتی ہیں ان ایام میں عورتیں کمزور ہوتی ہیں لہذا ان سے صحبت کرنا مزید کمزوری کا باعث بن سکتا ہے بیوی سے صحبت کا مقصد یہ ہے کہ افزائش نسل ہو اور توالد کا سلسلہ چلتا رہے اور دنیا قائم رہے لیکن حالت حیض میں جنسی اختلاط سے حمل دینے کا امکان نہیں رہتا ہے اس لیے بھی منع فرمایا گیا ہے لیکن آج کل کے نوجوان قرآن کی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے اس چیز سے ناواقف ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بیوی سے جماع کرنا کیوں کر ممنوع ہو سکتا ہے لہذا ہماری نئی نسل کو قرآن و احادیث کی تعلیم دینا ضروری ہے تاکہ اچھی طرح اپنی زندگی گزار سکے اور دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل کرکے کامیابی پر گامزن ہو۔