بیٹا اور بیٹی
وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْہَہٗ مُسْوَدّاً وَہُوَ کَظِیْمٌ یَتَوٰرٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْؑئِ مَا بُشِّرَ بِہِ ایُمْسِکُہٗ عَلیٰ ہَوْنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ اَلَا سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ(پارہ۔۔۔۔۔۔۔)
ترجمہ: اور جب ان کافروں میں سے کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ میں گھٹتا رہ کر لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی سے کہ اس ذلت کے ساتھ رہے گا یا مٹی میں دبا دے گا ارے بہت ہی برا حکم یہ لگا تے ہیں۔
برادران اسلام بعض لوگ بیٹیوں کی پیدائش سے منہ بگاڑتے ہیں اور غمگین ہو جاتے ہیں یہ دور جاہلیت کے کفار کا طریقہ ہے جیسا کہ آیت مذکورہ میں اس کا ذکر ہے اللہ جو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے سورہ شوریٰ میں ہے ’’خدا جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دیگا یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کر دے بیشک وہ علم اور قدرت والا ہے۔‘‘ خداوندقدوس کا یہ دستور ہے کہ کسی کو صرف بیٹی عطا فرماتا ہے اور کسی کو صرف بیٹا عطا فرماتا ہے اور کچھ لوگوں کو بیٹا اور بیٹی دونوں ہی عطا فرمادیا کرتا ہے اور کسی کو بانجھ بنا دیتا ہے ایسے معاملات انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ بھی ہوئے ہیں جیسا کہ حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام کو صرف بیٹیاں ہی تھیں کوئی بیٹا نہیں تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو صرف بیٹے ہی تھے کوئی بیٹی نہیں تھی اور حضور سید عالم ﷺ کو بیٹے اور بیٹیاں عطا ہوئیں اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کو کوئی اولاد ہی نہیں ہوئی۔
تفسیر روح البیان میں ہے حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عورت کے لیے یہ بہت ہی مبارک ہے کہ اس کی پہلی اولاد لڑکی ہو دوسری جگہ سرور کائنات ﷺ ارشاد فرماتے ہیں جس شخص کو کچھ بیٹیاں ملیں اور وہ ان کے ساتھ نیک سلوک کرے یہاں تک کہ کفو میں ان کی شادی کر دے تو وہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔
حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ تم لوگ بیٹیوں کو برا مت سمجھو اس لیے کہ میں بھی چند بیٹیوں کا باپ ہوں۔ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لڑکی! تو زمین پر اتر میں تیرے باپ کی مدد کروںگا۔