قرض حسنہ

قرض حسنہ

اِنْ تُقْرِضُواْ اللّٰۃَ قَرْضاً حَسَنَا یُضٰعِفَہٗ لَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ واللّٰہُ شَکُورٌ حَلِیْمٌ(پارہ۲۸، رکوع۱۶)
ترجمہ: اگر تم اللہ کو اچھا قرض دوگے وہ تمہارے لیے اس کے دونے کر دیگا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ قدر فرمانے والا اور حلم والا ہے۔
برادران اسلام قرض حسنہ سے مراد یہ ہے کہ خوش دلی سے نیک نیتی کے ساتھ مال حلال سے صدقہ دینا دوسرے جگہ سورہ مزمل میں ارشاد ربانی ہے ’’اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔‘‘ ضرورتمندوں کو قرض دینا اور انہیں مہلت دینا بھی باعث ثواب ہے احادیث میں اس کی کافی فضیلت آئی ہے چند احادیث پیش کی جاتی ہیں۔
حضور سید عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں جس کا دوسرے پر حق ہو اور وہ ادا کرنے میں تاخیر نہ کرے تو ہر روز اتنا مال صدقہ کر دینے کا ثواب پائے گا۔
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سیدِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص زمانہ گزشتہ میں لوگوں کو ادھار دیا کرتا تھا وہ اپنے غلام سے کہا کرتا تھا جب کسی تنگدست قرضدار کے پاس جانا تو اس کو معاف کر دینا اس امید پر کہ خدا ہم کو معاف کر دے جب اس کا انتقال ہوا اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا حضرت ابو فتاوہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ خدا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا جس کو یہ بات پسند ہو کہ قیامت کی سختیوں سے اللہ تعالیٰ اسے نجات بخشے تو وہ تنگدست قرضدار کو مہلت دے یا معاف کر دے حضرت ابو الیسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا یا معاف کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ میں رکھے گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کے مال کو لیتا ہے اور ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اللہ اس سے ادا کرا دے گا اور جو شخص تلف کرنے کا ارادہ سے لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر تلف کر دے گا۔
قرآن مقدس میں ارشاد ربانی ہے اگر قرضدار تنگدست ہے تو وسعت آنے تک اسے مہلت دو اور صدقہ کر دو (یعنی معاف کر دو) تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔