مہمان نوازی
ہَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرَاہِیْمَ الْمُکَرَّمِیْنَ اِذْ دَخَلُواْ عَلَیْہِ فَقَالُواْ سَلٰماً قَالَ سَلٰمٌ قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ فَرَاغَ اِلیٰ اَہْلِہِ فَجَآہَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍ فَقَرَّبَہٗ اِبْرَاہِیْمَ قَالَ اَلَا تَاْکُلُوْنَ(پارہ۲۶، رکوع۱۹)
ترجمہ: اے محبوب کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی جب وہ اس کے پاس آکر بولے سلام کہا ناشناسا لوگ ہیں پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیا پھر اسے ان کے پاس رکھا اور کہا کیا تم کھاتے نہیں۔
برادران اسلام مہمان نوازی کا ذکر قرآن مقدس میں کئی جگہ ہے مہمان نوازی حضور سرور کائنات ﷺ کی سنت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر یقین رکھتا ہے اسے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہیے کہ صلہ رحمی کرے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھنے والے کو چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
حضرت ابو شریح خویلد بن عمرو خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سید العرب و العجم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ مہمان کی اچھی طرح خاطر و تواضع کرے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کب تک ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک دن اور ایک رات اور ایک رات اور ضیافت تین دن ہے اور اس سے زائد صدقہ ہے۔
مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ کسی مسلمان کے لیے اپنے بھائی کے پاس اتنی مدت ٹھہرنا جائز نہیں کہ اسے گناہ میں مبتلا کر دے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کس طرح گناہ میں مبتلا کرے گا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ اس طرح کہ اس کے پاس ٹھہر جائے لیکن اس کے پاس مہمان نوازی کے لیے کچھ نہ ہو۔
پیارے دینی بھائیو مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہیے اگر گھر میں مہمان آتے ہیں تو ناگواری کا اظہار نہ کریں اگر آپ کسی کے یہاں مہمان جاتے ہیں تو کسی چیز کی فرمائش نہ کریں ہو سکتا ہے کہ وہ چیز میزبان کے یہاں نہ ہو اور اسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔