دعوت دین

دعوت دین

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَمُرُوْنَ بِلْمَعْروْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (پارہ۴، رکوع۲)
ترجمہ: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں اور یہی لوگ مراد کو پہنچے۔
برادران اسلام اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہو جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلائیں۔
حضرت ابو معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جابر حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا بہترین جہاد ہے حضرت ابو دردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکتے رہنا نہیں تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسے حاکم کو مقرر کرے گا جو تمہارے بزرگوں کا احترام نہیں کرے گا تمہارے بچوں کا احترام نہیں کرے گا تمہارے بڑے بلائیں گے لیکن ان کی بات نہیں مانی جائے گی وہ مدد طلب کریں گے مگر ان کی مدد نہیں کی جائے گی اور وہ بخشش طلب کریںگے مگر انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم صرف نیک کاموں کا حکم کرنا اور برے کاموں سے منع کرتے رہنا ورنہ قریب ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تم پر عذاب بھیج دیگا پھر تم اس سے دعا کروگے تم تمہاری دعا قبول نہیں کی جائے گی۔
حضرت عرس بن عمیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا جب زمین میں گناہ کیا جائے تو وہاں موجود ہو اور وہ اسے ناپسند کرے تو ایسا ہے جیسے وہاں موجود نہیں اور جو موجود ہے لیکن اس سے راضی ہے تو ایسا ہے جیسے موجود ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اشرف الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو ایک بستی کی طرف بھیجا کہ اس بستی کو اس کے باشندوں پر الٹ دو عرض کیا اے رب اس میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے آنکھ جھپکنے کی دیر میں تیری نافرمانی نہیں کی فرمایا کہ اس پر اور دوسرے سب پر الٹ دو کیونکہ میرے لیے اس کا چہرہ ایک ایک لمحہ کے لیے بھی متغیر نہ ہوا تھا
پیارے دینی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ خود اچھا کام کریں اچھے کاموں کا حکم دیں اپنے آپ کو برائیوں سے دور رکھیں اور دوسروں کو برائیوں سے منع کریں۔