صبر اور شکر
فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْلِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنَ (پارہ۲، رکوع۱۳)
ترجمہ: تم میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروںگا اور میرا حکم مانو اور میری ناشکری نہ کرو۔
برادران اسلام اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کی ناشکری نہ کرے بلکہ ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتے رہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور مصیبتوں پر صبر کرنا بڑی فضیلت کا باعث ہے صبر کرنے والے کا اللہ تبارک و تعالیٰ مددگار ہے اور صبر کرنے پر اجر عظیم فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ شکر اور صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور ہر مصیبت پر صبر کریں۔
حضور سید المرسلین ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم امعین کی ایک جماعت سے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے کہا ہم مومن ہیں حضور سید المرسلین ﷺ نے فرمایا تمہارے ایمان کی علامت کیا ہے انہوں نے کہا ہم مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں فراخ دستی پر شکر کرتے ہیں اور رب تبارک کی رضا پر راضی رہتے ہیں سید المرسلین ﷺ نے فرمایا رب کعبہ کی قسم تم مومن ہو۔
خاتم الانبیاء حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنی ناپسندیدہ چیز پر صبر کرنا بہت عمدہ چیز ہے سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا تم اپنی پسندیدہ چیزوں کو نہیں پا سکتے جب تک کہ ناپسندیدہ چیزوں پر صبر نہ کرو صبر کرنے والا شخص مہربان آدمی ہوتا ہے خداوند قدوس صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے جس نے قناعت کی وہ معزز ہوا اور جس نے لالچ کیا وہ ذلیل ہوا قناعت ایک ایسا خزانہ ہے جو فنا نہیں ہوتا۔
جو شخص اللہ تبارک و تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے صبر کرتا ہے اسے چھ سات درجات عطا ہوںگے جن میں ہر درجہ کا فاصلہ ساتویں آسمان زمین کے فاصلہ کے برابر ہوگا اور جو مصیبتوں پر صبر کرتا ہے اسے سات سو درجات عطا ہوںگے ہر درجہ کا فاصلہ تحت الثریٰ سے عرش سے عرش اعلیٰ کے برابر ہوگا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مقدس میں نوّے سے زائد مقامات پر صبر کے فضائل کو بیان فرمایا ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے صبر آدھا ایمان ہے لہذا ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رہنا چاہیے۔