اچھے نام
وَلَا تَلْمِزُواْ اَنْفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُواْ بِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْایْمَان(پارہ۲۶، رکوع۱۴)
ترجمہ: اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے فاسق ہو کر فاسق کہلانا۔
برادران اسلام اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو اور کسی برے نام سے نہ پکارو کسی شخص کو ایسے نام سے پکارنا جس سے اس کو تکلیف ہو دل شکنی ہو ممنوع ہے۔
اچھے نام رکھنے کی فضیلت حدیثوں سے ثابت ہے اپنی اولاد کا نام اسلامی رکھنا چاہیے جس کے معنی اور مطلب اچھے ہوں حضور سید عالم ﷺ برے ناموں کو اچھے ناموں سے بدل دیتے تھے ہمیں چاہیے کہ اچھے نام رکھیں برے نام نہ رکھیں سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا اولاد کا والدین پر حق یہ ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے حضرت ابی وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام کے نام پر نام رکھو اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک ناموں میں زیادہ پیارا عبداللہ اور عبد الرحمن ہے اور سچے نام حارث اور ہمام ہیں اور حرب اور مرہ برے نام ہیں۔
سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں روز قیامت دو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے کیے جائیںگے حکم ہوگا انہیں جنت میں لے جاؤ عرض کریںگے الٰہی ہم کس عمل کی وجہ سے جنت کے قابل ہوئے ہم نے تو جنت کا کوئی کام نہیں کیا اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جنت میں جاؤ میں نے حلف لیا ہے جس کا نام محمد یا احمد ہو دوزخ میں نہیں جائے گا۔
آج کل ماں بہنوں نے بھی اپنی لڑکیوں کے لیے صحابیات کا مبارک اور سنجیدہ اور پُروقار نام چھوڑ کر فلمی اداکاراؤں کے بھڑک دار نام رکھنا شورع کر دیے ہیں جیسے نجمہ، پروین، نرگس، زینت وغیرہ خواتین اسلام کو ایسا نام نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ایسے نام رکھے جائیں جو صحابیات اور اولیات و نیک عورتوں کی طرف منسوب ہوں تاکہ اس نام کا اچھا اثر ظاہر ہو اور نام کو بگاڑ کر نہ بلائیں بلکہ پورا نام ادا رکریں بعض لوگ عبد الرحمن کو صرف رحمٰن کہہ کر پکارتے ہیں یہ جائز نہیں۔