ماں باپ
وَ بِالْوَاْلِدَیْنِ اِحْسَاناً اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدَہُمَا اَوْ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلْ لَّہُمَا اُفٍّ وَّ لَا تَنْہَرْہُمَا وَ قُلْ لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْمَا (پارہ۱۵، رکوع۳)
ترجمہ: اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ’’اف‘‘ نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔
برادران اسلام اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ماں باپ یا ان دونوں میں سے ایک ضعیف و کمزور ہوجائیں تو ان کی خدمت کریں اور ان کی کسی بات پر زبان سے ایسے کلمات نہ نکالیں جن سے ان کو تکلیف ہو جس طرح آج ہمارے سامنے وہ کمزور ہیں اسی طرح ہم بچپن میں ان کے سامنے کمزور تھے انہوں نے بڑی محنت و شفقت سے ہماری پرورش کی ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں ان کی خدمت کرکے اجر عظیم حاصل کریں جن سے والدین راضی ہوتے ہیں خداوند قدوس بھی ان سے خوش ہوتا ہے بیان کیا جاتا ہے کہ حضورت یعقوب علیہ السلام اپنے صاحبزادے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس تشریف لائے تو حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام باپ کی تعظیم کے لیے کھڑے نہ ہوئے تو اللہ عز وجل شانہ نے ان پر وحی بھیجی کے اے یوسف کیا تم اپنے باپ کے لیے کھڑے ہونے کو ناپسند کرتے ہو اگر ایسا ہے تو مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم میں تمہاری اولاد میں کوئی نبی پیدا نہیں کروںگا۔
سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے جب بھی رحمت کی نظر سے ان کو دیکھیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ ہر بار دیکھنے کے عوض ایک مقبول حج کا ثواب عطا فرماتا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر روزانہ سو بار اسی طرح دیکھیں تو حضور سیدِ عالم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بہت بڑا ہے اور بہت پاک ہے یعنی مطلب یہ ہے کہ ہر بار دیکھنے کے عوض حج کا ثواب ملے گا۔
ہمارے نوجوانو کو چاہیے کہ اپنے والدین کی خدمت کرکے ثواب دارین حاصل کریں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کریں اگر ہم والدین کی خدمت کریں گے تو ہماری اولاد بھی ہماری خدمت کرے گی۔