قطعی حرام کو حلال جاننا

قطعی حرام کو حلال جاننا

وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلَی اَوْلِیَائِ ھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ (پ۸ رکوع۱)
ترجمہ: اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کے دلوںمیں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم انکا کہنا مانو تو تم اس وقت مشرک ہو ۔
برادران اسلام اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مولانا محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ والرضوان فرماتے ہیں کہ اللہ کے حرام کئے کو حلال ماننا کفر ہے کیو نکہ دین اسلام میں حکم الہی کو چھوڑ کر دوسرے کا حکم ماننا اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم قرار دینا شرک ہے۔
’’قرآن مقدّس نے جس کو حرام قرار دیا ہے اسے حلال جاننا اور جس کو حلال بتایا ہے اسکو حرام جاننا کفر ہے لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہ سمجھیں البتہ اگر کوئی حرام کام کا مرتکب ہو تا ہے تو اسکے لئے گناہ کبیرہ ہے شیطان مومن کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ گناہوںمیں ملّوث ہو جائو اس بات میں لذّت ہے بندۂ مومن جس کے دل میں خدا کا خوف ہے فوراً توبہ استغفار کرتے وقت اس خیال کو اپنے دل سے نکال دیتا ہے لیکن جس کے دل میں خوف الہی نہیں شیطان اس پر غلبہ پاجا تا ہے پھر وہ حلال حرام میں تمیز نہیں کرتا ۔
لہذا ہمیں چاہئے کے حرام چیزوں سے دور رہیں اگر کوئی حرام کام میں ملوّث ہو جاتاہے اسکو حرام ہی سمجھے ہر گز ہرگز اسکو حلال نہ سمجھے ورنہ وہ اسلام سے خارج ہو جائیگااگر حرام سمجھے گا تو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو گا ہر بندۂ مومن کو یہ ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ قطعی حرام کو حلال جاننا اور قطعی حلال کو حرام جاننا کفر ہے اللہ عزوجل شانہ ہر مومن کو اس سے بچائے ۔