موت کے بعد زندگی
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَہٗ بَلیٰ قٰدِرِیْنَ عَلٰی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ(پارہ۲۹،رکوع۱۷)
ترجمہ: کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈی جمع نہ فرمائیںگے کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کو پورا ٹھیک بنا دیں۔
برادران اسلام بیشک ہم موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیںگے اور ہم سے حساب وکتاب ہوگا جو موت کے بعد کی زندگی کا انکار کرے گا گویا اس نے قرآن کا انکار کیا اور وہ اسلام سے خارج ہے آیت مذکورہ کا شان نزول یہ ہے کہ عدی بن ربیعہ نے حضور سیدِ عالم ﷺ سے کہا کہ اگر میں قیامت کے دن دیکھ بھی لوں جب بھی میں نہ مانوں اور آپ پر ایمان نہ لاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ بکھری ہوئی ہڈیاں جمع کر دے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ کیا اس کافر کو یہ گمان ہے کہ ہڈیاں بکھرنے اور مٹی میں ملنے کی وجہ سے اس کا جمع کرنا ہماری دست قدرت سے باہر ہے یہ خیال فاسد اس کے دل میں کیوں آیا اور اس نے کیوں نہیں جانا کہ پہلی بار جو پیدا کرنے پر ہم قادر ہیں مرنے کے بعد وہ دوبارہ ضرور پیدا کرنے پر قادر ہے ان کی انگلیاں جیسی تھی بغیر فرق کے ویسی ہی کر دیں گے اور ان کی ہڈیاں ان کے موقع پر پہنچادیں گے جب چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ترتیب دی جائیں تو بڑی کا کیا کہنا۔
آدمی کے مرنے کے بعد حساب و کتاب کے لیے سزا و جزا کے لیے زندہ کیے جانے پر ایمان لانا بہت ضروری ہے اور آخرت کی زندگی ہی باقی اور حقیقی زندگی ہے۔
دنیا کی زندگی میں حضور سیدِ عالم ﷺ کے فرمان کے مطابق گزاریں تو آخرت میں جنت ملے گی۔
مذہب اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں موت کے بعد کوئی زندگی کا کوئی تصور نہیں حساب و کتاب کا گمان نہیں اگر ایسا ہی ہے تو پھر انسان ظلم و ستم کرنے لگتا ہے کیونکہ انہیں آخرت میں حساب و کتاب کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔
ہمیں چاہیے کہ ہم بعثت پر ایمان رکھیں اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ہمیں ہر اچھے برے اعمال کا حساب دینا ہے اگر ظلم کرتے ہیں برائی کرتے ہیں اور گناہوں میں ملوث ہوتے ہیں تو بلا شبہ اس کے بدلے میں جہنم کا عذاب چکھنا پڑیگا بعثت پر ایمان سے ہمارے اعمال بھی اچھے ہوںگے اور اس سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرت کا بھی پتہ چلتا ہے۔