قرآن کا منکر دوزخی

قرآن کا منکر دوزخی

فَقَالَ اِنَّ ھٰذٓا اِلَّا سِحْرٌ یُّوْثَرَہْ اِنْ ہٰذٓا اِلَّا قَوْلُ البشرہ (پارہ۲۹، رکوع۱۵)
ترجمہ: پھر بولا یہ تو وہی جادو ہے اگلوں سے سیکھا یہ نہیں مگر آدمی کا کلام۔
برادران اسلام قرآن مقدس اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام ہے جو اس میں شک و شبہ کرے گا بلا شبہ وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا اور منکرین قرآن کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
جب حٰم تنزیل الکتاب نازل ہوئی اور سید عالم ﷺ نے مسجد میں تلاوت فرمائی تو ولید نے سنا اور قوم میں آکر کہا کہ خدا کی قسم میں نے محمد ﷺسے ابھی ایک کلام سنا نہ وہ آدمی کا نہ وہ جن کا خدا کی قسم اس میں عجب شیرنی ہے وہ کلام سب پر غالب رہے گا قریش کو ان باتوں سے رنج ہوا اور مشہور ہو گیا کہ ولید آبائی دین سے برگشتہ ہو گیا ابو جہل نے ولید کو ہموار کرنے کے لیے غم زدہ صورت بنا کر ولید سے کہا قریش تیرے خرچ کے لیے روپیہ جمع کریںگے انہیں خیال ہے کہ تو نے محمد کے کلام کی تعریف اس لیے کی ہے کہ تجھے اس کے دسترخوان کا بچا کھانا مل جائے گا اس پر بہت طیش آیا اور کہنے لگا کہ قریش کو میرے مال و دولت کا حال معلوم نہیں اور کہا محمد اور ان کے اصحاب نے کبھی سیر ہو کر کھانا بھی کھایا ہے ان کے دسترخوان پر کیا بچے گا پھر اٹھا اور قوم کو کہنے لگا تمہیں خیال ہے کہ محمد مجنون ہیں کیا تم نے ان میں دیوانگی کی کوئی بات دیکھی؟ سب نے کہا ہرگز نہیں تم ان کو شاعر گمان کرتے ہو کیا تم نے ان کو شعر کہتے ہوئے پایا ہے سبھوں نے کہا نہیں یہ سن کر قریش نے کہا پھر بات کیا ہے تو ولید نے سوچ کر کہا کہ بات یہ ہے کہ وہ جادوگر ہیں تم نے دیکھا ہوگا کہ ان کی بدولت رشتہ دا رشتہ دار سے باپ بیٹے سے جدا ہو جاتے ہیں بس جادوگر کا یہی کام ہے۔
اور جو قرآن پڑھتے ہیں دل میں اثر کر جاتا ہے اس کا باعث یہ ہے کہ وہ جادو گر ہے اس آیت میں اس کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بعد ولید بن مغیرہ کی سب دولت برباد ہو گئی اور بہت ذلیل و خوار ہو کر داخل جہنم ہوا۔
بلا شبہ قرآن کے منکروں کے لیے دردناک عذاب ہے ایسے لوگ دنیا میں بھی عذاب کا مزہ چکھتے ہیں اور آخرت کا عذاب بھی جھیلنا پڑتا ہے۔