مسلمان ایک دوسرے پر نہ ہنسیں

مسلمان ایک دوسرے پر نہ ہنسیں

یٰایِّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُواْ لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰی اَنْ یَّکُوْنُواْ خَیْراً مِنْہُمْ وَ لَا نِسَائٌ مِنْ نِسَائٍ عَسٰی اَنْ یَّکُنَّ خَیْراً مِنْہُنَّ (پارہ۲۶، رکوع۱۴)
ترجمہ: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں۔
برادرانِ اسلام یہ آیت نبی تمیم کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت عمار جناب بلال اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا مذاق اڑایا کرتے تھے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مردوں پر نہ ہنسیں یعنی مالدار لوگ غریبوں کی ہنسی نہ بنائیں نہ تندرست اپاہیج کا مذاق اڑائے اور نہ ہی آنکھوں والا اندھوں پر ہنسیں تعجب نہیں کہ یہ غریب صدق اخلاص اور اعمال میں ان لوگوں سے بہتر ہوں اور آیت مذکورہ میں جو یہ فرمایا گیا کہ عورتیں عورتوں پر نہ ہنسیں یہ آیت ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حق میں نازل ہوئی انہیں معلوم ہوا کہ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں یہودی کی لڑکی کہا اس پر انہیں رنج ہوا اور روئیں، حضور سیدِ عالم ﷺ سے شکایت کی تو حضور نے فرمایا کہ تم نبی زادی ہو اور نبی کی بیوی ہو تم پر وہ کیا طنز کرتی ہیں اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا اے حفصہ خدا سے ڈرو۔
پیارے دینی بھائیو کبھی بھی کسی انسان پر ہنسی نہ اڑائیں اس سے اللہ تبارک و تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے اس سے دل شکنی بھی ہوتی ہے اور کسی بھی مومن کی دل شکنی درست نہیں حضور سیدِ عالم ﷺ ایسی باتوں سے نفرت فرمایا کرتے تھے سماج میں لوگ اس کو کوئی بری بات نہیں جانتے بلکہ غریبوں کا مذاق اڑانا اپنی شان سمجھتے ہیں اگر راہ میں کسی لنگڑے اندھے کو دیکھیں ہرگز ہرگز اس کا مذاق نہ اڑائیں یہ سخت گندا کام ہے اور ہمیں کیا معلوم کہ وہ ہم سے بہتر ہوں آج ہمارے سماج میں اگر شادی بیاہ دعوت وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے تو امراء کو بلا لیتے ہیں اور اپنے پڑوس کے غربا کو چھوڑ دیتے ہیں یقینا یہ غریبی کا مذاق اڑانا ہوا حضور سیدِ عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ایسی دعوت میں شرکت نہ کرو جس میں غرباء کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔