مال اور اولاد فتنہ ہے
وَاعْلَمُوآ اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَہٌ وَ اَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(پارہ۹،رکوع۱۷)
ترجمہ: اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے ۔ پیارے دینی بھائیو !آ یت مذکورہ میں اللہ تبارک وتعالی مال اور اولاد کو فتنہ قرار دے رہا ہے لیکن یہ فتنہ اس کے لئے ہے جو اولاد اور مال میں الجھ کے اللہ تبارک وتعالیٰ کی یاد سے غافل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ فرائض کو بھی فراموش کر جاتا ہے ۔روزہ اور نماز کی ادائیگی نہیں کرتا بلاشبہ ایسی اولاد اور ایسا مال انسان کیلیٔ فتنہ ہے۔
اگر مال اور اولاد آخرت کی نیکی کمانے میں حائل نہ ہو تو عبادات الہی کی ادائیگی میں رکاوٹ پیدا نہ کرے تو فتنہ نہیں اولاد نیک صالح ہو متقی پرہیزگار ہو اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری زندگی گزارتی ہو تو والدین کیلیٔ یہ صدقہ جاریہ ہے والدین کو بھی بعد وفات اس کے نیک کام کرنے کا ثواب ملتا رہے گا مال اگر عبادت الہی میں مخل نہ ہو اور اسی مال کے ــذریعہ قرب الہی کے لیے راہ خدا میں خرچ و غریبوں کی مدد کی جائے تو بلاشبہ باعث رحمت ہے یقینا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مال ان کیلئے رحمت تھا اور فرعون کا مال اس کیلئے زحمت تھا ۔
حضور سیدالمرسلین صلے اللہ تعلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک دورایسا آئے گا کہ انسان کو اس کہ رشتہ دار ہلاک کر دیں گے صحابہ اکرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ کس طرح ہوگا تو نبی دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا ان کے گھر والے دوسرے کی مثال دیکر مال کمانے پر عار دلائیں گے یہاں تک کہ وہ اپنی طاقت سے زیادہ محنت کریگا اور ہلاک ہو جائیگا ۔
پیارے بھائیوں! ایسا مال فتنہ ہی فتنہ ہے جس سے انسان ہلاک ہو جائے جو مال آخرت کو برباد کر دے جس مال سے کسی کی دل شکنی ہو جس مال کی وجہ سے فرائض کو ادانہ کرسکے ایسے مال سے اپنے آپکو بچانا چاہئے۔