سلام و جواب
وَ اِذَٓ حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوا بِاَحْسَنَ مِنْہَا اَوْ رُدُّوْھَا (پارہ۵، رکوع۸)
ترجمہ :اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہتر لفظ میں جواب کہو یا وہی کہہ دو۔
برادران ملت اسلامیہ سلام کرنا سنت ہے اور سلام کا جواب دینا واجب ہے اور جواب میں افضل ہے کہ سلام کرنے والے کے سلام پر کچھ بڑھا ئے مثلاً اگر کوئی السلام علیکم کہے اسکے جواب میں وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ کہے اگر سلام کرنے والے نے رحمتہ اللہ بھی کہا تھا تو جواب دینے والابرکاتہ بڑھائے سلام و جواب میں اس سے زیادہ نہیں ہے۔
بردران اسلام سلام کرنا انکساری کی علامت ہے۔سلام کرنے میں پہل کرنا دل سے تکبر کو ختم کردینا ہے اور بلاشبہ سلام کرنے والاجواب دینے والے سے بہتر ہوتا ہے سیّدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرورکائنات ﷺنے ارشاد فرمایا کہ جنّت میںتم نہیں جائوگے جب تک ایمان نہ لائوگے اور تم مومن نہیں ہوگے جب تک آپس میں محبت نہ کرو کیا تمہیں ایسی بات نہ بتائوں کہ تم اسے کرو تو آپس میں محبت کرنے لگوگے وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو پھیلائو حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فخر موجودات ﷺنے ارشاد فرمایا جو شخص پہلے سلام کرے وہ رحمت کا زیادہ مستحق ہے ۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کے اشرف الانیباء علیہ الصلوٰہ والسلام نے ارشاد فرمایا سوار پیدل چلنے والے کو چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے آدمی زیادہ آدمی کو سلام کریں ۔ حضرت عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں آیا ہے کہ سیّدالا نبیاء ﷺنے ارشاد فرمایا جب مجلس سے اٹھے تو سلام کہے کیونکہ سلام کا کہنا گناہوں کا کفّارہ ہے اور فرشتے اسکی بخشش کے طلبگار ہوتے ہیں جو شخص مجلس سے اٹھتے وقت سلام کہتا ہے تو خداوند قدّوس کی رحمت اس پر نازل ہو تی ہے اسکی نیکیاں اور زندگی زیادہ ہوتی ہے ۔ہمیں چاہئے کہ سلام کرنے میں پہل کرنے کی عادت بنائیں ۔