حج بیت اللہ
اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اْعتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَن یَّطَّوَّفَ بِہِمَا (پارہ۲، رکوع۳)
ترجمہ: بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے۔
برادران اسلام حج بیت اللہ فرائض اسلام میں سے ہے اس کا انکار کرنے والا اسلام سے خارج ہو جائے گا حج کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی حج نہ کرنا گناہ عظیم ہے اور بڑی بدنصیبی کی بات ہے
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا حج جلد ادا کرو کہ کیا معلوم کیا پیش آئے اور ایک روایت میں ہے کہ جس کا ارادہ حج کرنے کا ہو تو وہ جلدی کرے۔
حضورت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جسے کوئی ایسی ظاہری حاجت پیش نہ آئی نہ ظالم بادشاہ روکے نہ کوئی ایسا مرض ہو جو اسے روک دے پھر بغیر حج کیے مر گیا تو چاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔ دوسری جگہ سرور کائنات ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تبارک وتعالیٰ کے مہمان ہیں اگر اس سے دعا کریں ان کی دعا قبول ہوتی ہے اگر وہ اس سے بخشش طلب کریں تو ان کو بخش دیتا ہے۔
پیارے دینی بھائیو حاجی جب حج سے واپس آتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی خاص رحمتوں سے مالا مال ہوتا ہے اور دربار الٰہی سے مقرب بندہ بن لوٹتا ہے حاجی کی دعا اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہے اسی لیے حاجی سے ملاقات کرنا اور ان سے دعا کرانا باعث سعادت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا جس وقت تو کسی حاجی سے ملے تو اس کو سلام کرو اور اس سے مصافحہ کرو اور اس کو کہو کہ تیری بخشش کے لیے دعاء کرے اس سے پہلے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو اس لیے کہ اس کو بخش دیا گیا ہے۔
پیارے دینی بھائیو! اگر اللہ تبارک وتعالیٰ مال و دولت سے نوازے تو بلا تاخیر آپ حج بیت اللہ کے لیے روانہ ہو جائیں کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے ایک اہم فرض ادا ہونے سے رہ جائے گا۔