زکوٰۃ فرض ہے

زکوٰۃ فرض ہے

وَ اَقِیْمُوا الصَّوٰۃَ وَ آتُواْ الزَّکوٰۃَ وَارْکَعُواْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ (پارہ۱، رکوع۵)
ترجمہ: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
برادرانِ اسلام زکوٰۃ ارکانِ اسلام میں سے ہے اس کا انکار کرنے والا اسلام سے خارج ہوجائے گا شرعی اعتبار سے زکوٰۃ مال کا وہ حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے غریبوں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے جو سال گزرنے کے بعد مقررہ نصاب کے مطابق محتاجوں کو دیا جاتا ہے قرآن میں جگہ جگہ نماز کے ساتھ ہی زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا ہے اور حضور سیدِ عالم ﷺ نے بھی زکوٰۃ کو دین اسلام کی بنیاد قرار دیا ہے۔
سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا جو اپنے مال کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کے پہلو اور پیٹھ کو جہنم کے سخت گرم پتھروں سے داغا جائے گا اور اس کا جسم وسیع کر دیا جائے گا اور جب کبھی اس کی حرارت میں کمی آئے گی اس کو بڑھا دیا جائے گا اور دن اس کے لیے طویل کر دیا جائے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی یہاں تک کہ بندوں کے اعمال کا فیصلہ ہوگا پھر وہ جنت کی طرف اپنا راستہ اختیار کر لیںگے۔
پیارے دینی بھائیو! اللہ عز و جل شانہ قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے راہِ خدا میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دیدو جس دن اس کے مال کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اس سے ان کے پہلؤوں، پیشانیوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا مال جو تم نے جمع کیا تھا اب اپنے جمع کردہ کردہ مال کا مزہ چکھو۔
حضور سرورِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن غربا اور فقراء امیروں کے لیے ہلاکت کا سبب بنیںگے جب وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریںگے اے اللہ! انہوں نے ہمارے حقوق ہم کو نہ دے کر ہم پر ظلم کیا ہے اب اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرمائے گا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم آج میں تمہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دوںگا اور انہیں اپنی رحمت سے دور کروںگا۔
پیارے دینی بھائیو! ہمیں ضرور مال کی زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے اسی میں آخرت کی بھلائی ہے۔