روزہ کی فرضیت

روزہ کی فرضیت

یٰا یُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلیَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (پارہ۲، رکوع۷ )
ترجمہ: اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے کہ اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔
برادرانِ اسلام روزہ فرض ہے۔ اس کی فرضیت کا انکار کرنے والا اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ روزہ ۱۰؍شوال ۲ ؁ھ میں فرض ہوا۔ روزہ نفس پر دشوار ہے اس لیے یہ فرما دیا گیا کہ روزہ صرف تم پر ہی نہیں بلکہ اگلی امتوں پر بھی تھا تفسیر کی کتابوں میں آیا ہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک ہر امت پر روزے فرض رہے حضرت آدم علیہ السلام پر ہر قمری مہینہ کی تیرھویں اور پندرھویں کے روزے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر عاشورہ کا روزہ فرض رہا بعض روایتوں میں ہے کہ سب سے پہلے نوح علیہ السلام نے روزے رکھے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخض ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے روزہ رکھے گا تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور جو ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام یعنی نماز تراویح پڑھے گا تو اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیںگے تمام عبادتیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے خاص ہیں مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوںگا جیسا کہ بیت اللہ شریف کو اپنا گھر کہا حالانکہ ساری دنیا اسی کی ملکیت ہے روزہ میں دو خاصیتیں ہیں جس کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے کے لائق ہوا ایک یہ کہ روزہ کی حقیقت شہوت کو چھوڑنا ہے اور یہ باطنی امر ہے لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ ہے اس میں دکھاوا بالکل نہیں دوسرا یہ کہ ابلیس اللہ تبارک و تعالیٰ کا دشمن ہے اور شہوت ابلیس کا لشکر ہے اور روزہ اس کے لشکر کو شکست دیتا ہے حضور سیدِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا شیطان آدمی کے جسم میں اس طرح چلتا ہے جیسے خون رواں دواں ہے شیطان کے راستے کو بھوک سے تنگ کرو اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا روزہ ڈھال ہے ہمیں چاہیے کہ روزہ کی پابندی کریں اور شیطان کو کامیاب ہونے کا موقع نہ دیں۔