نماز

نماز

وَاَقِمِ الصَّلوٰہ اِنَّ الصَّلوٰہَ تَنْھیٰ عَنِ الْفَحْشَائِ وَ الْمُنْکَرِ ط وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَر(پارہ۲۱رکوع۱)
ترجمہ: اور نماز قائم کرو بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے اور بیشک اللہ تعالیٰ کا ذکر سب سے بڑا ہے۔
برادران اسلام نماز بہت بڑی نعمت ہے مومن کے لیے معراج ہے جو بندہ مومن نماز کو حضور قلب کے ساتھ ادا کرتا ہے ایک نہ ایک دن وہ نمازی برائیوں کو ترک کر دیتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نوجوان حضور سیدِ عالم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا اور گناہ کبیرہ میں مبتلا بھی تھا سرورِ کائنات ﷺ سے اس نوجوان کے بارے میں شکایت کی گئی تو آقائے دوجہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کی نماز کسی دن اس کو برائیوں سے روک دے گی چنانچہ تھوڑا عرصہ گزرا کہ اس نوجوان نے ہمیشہ کے لیے ان برائیوں سے توبہ کر لی۔ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس کی نماز اس کو بے حیائی سے نہ روکے وہ نماز ہی نہیں۔
حضور سیدِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تو نماز اس طرح پڑھ کہ تو خدا کو دیکھ رہا ہے اگر یہ نہ ہو سکے تو اپنے دل میں یہ خیال کر کہ کہ تجھے خدا وند قدوس دیکھ رہا ہے اور یہ خیال نماز کے ہر رکن ادا کرنے میں رہنا چاہیے تاکہ نماز کا لطف حاصل ہو۔ نماز ادا کرتے وقت ہر رکن کو اطمینان کے ساتھ ادا کرنا چاہیے تاکہ ہر رکن صحیح طریقے سے ادا ہو سکے کچھ نمازی اتنی رفتار سے نماز ادا کرتے ہیں کہ ان کا رکن پورا نہیں ہوتا لہذا ہمیں چاہیے کہ نماز کو اطمینان اور سکون کے ساتھ ادا کریں تاکہ ہماری نماز ضائع ہونے سے بچے۔ بروز محشر سب سے پہلے نماز کے متعلق ہی سوال کیا جائے گا۔