منافقین سے بچنا ضروری ہے

منافقین سے بچنا ضروری ہے

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّامَنُوْکُم وَ یَامَنُوا قَوْمَہُمْ (پارہ ۵،رکوع۹)
ترجمہ: اب کچھ اور لوگ تم ایسے پاؤگے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امان میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امان میں رہیں۔
برادان ملت الاسلامیہ جو منافق ہوتے ہیں ان سے بچنا ضرری ہے کیونکہ ا س سے اسلام اور مسلمان دونوں کو نقصان پہنچتا ہے ان کے دل میں کدورت اور تاریکی ہوتی ہے ان کا بطن کچھ ہوتا ہے اور ظاہر کچھ اور۔
مدینہ منورہ میں قبیلہ اسد و غطفان کے لوگ اسلام کا کلمہ دکھاوا کے لیے پڑھتے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے اور جب ان میں سے کوئی اپنی قوم سے ملتا اور وہ لوگ ان سے کہتے کہ تم کس چیز پر ایمان لائے تو لوگ کہتے کہ بندرں اور بچھوؤں پر ان کا مطلب یہ تھا کہ دونوں طرف سے رسم و راہ رکھیں اور کسی جانب سے انہیں نقصان نہ پہنچے ایسے ہی لوگوں کو منافق کہا جاتا ہے۔
ایسے لوگوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا ضروری ہے ورنہ اس سے نقصان پہنچے گا حضور سیدِ عالم ﷺ کے دور میں منافقین اسلام نے حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ رہ کر اسلام کو اور آپ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی اس لیے حضور سیدِ عالم ﷺ نے منافقوں سے دور رہنے کی تاکید کی ہے۔
اس لیے بھی ان سے بچنا ضروری یہ ہمارے کھلے ہوئے دشمن نہیں ہیں بلکہ ہمارے ساتھ رہ کر دشمنی کرتے ہیں اس سے نقصان کا امکان زیادہ ہے یہ کلمہ گو ہوتے ہیں ان کا لباس اسلامی ہوتا ہے لیکن اسلام اور شان رسالت میں توہین کرتے ہیں موجودہ دور میں سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کہنے کو تو کلمہ گو ہے لیکن ہمیشہ قرآن اور احکام اسلام میں نقص نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگوں سے دین اسلام کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے لہذا ایسے لوگوں سے دامن بچانا چاہیے یہی قرآن و حدیث کا فرمان ہے اور اسی میں ہماری بھلائی ہے۔