اللہ و رسول کے دشمنوں سے دشمنی

اللہ و رسول کے دشمنوں سے دشمنی

یٰایُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوْا اٰبَائَ کُمْ وَ اِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّواْ الْکُفْرَ عَلَی الایْمَانِ (پارہ ۱۰، رکوع۹)
ترجمہ: اے ایمان والو اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں۔
جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو مسلمانوں کو مشرکین سے ترک موالات کا حکم دیا گیا تو بعض لوگوں نے کہا یہ کیسے ممکن ہے کہ آدمی اپنے باپ بھائی وغیرہ سے ترک تعلق کرے اور بتا دیا گیا کہ کفار سے موالات جائز نہیں ان سے کوئی بھی رشتہ ہو تم میں سے جو کوئی بھی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہے
برادران اسلام جس نے کفر کا راستہ اختیار کیا وحدانیت و رسالت کا انکار کیا اس سے دوستی کرنے سے منع فرمایا گیا اور اس سے ترک تعلق کا حکم دیا گیا ابتدائے اسلام میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کا عملی طور پر مظاہرہ بھی کیا چنانچہ سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جنگ میں حضور سید عالم ﷺ کے ساتھ تھے جبکہ آپ کا لڑکا کفار قریش کے ساتھ تھا اس باپ بیٹے کی لڑائی میں قیامت تک مسلمانوں کے لیے درس عبرت ہے اسلام میں رشتہ داری نہیں دیکھی جائے گی سب سے بلند رشتہ ایمان کا رشتہ ہے باقی سب رشتے اس سے نیچے ہیں قرآن مقدس میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کا مال اور وہ سود جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کا مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور جلد آنے والے عذاب میں مبتلا کرے یا دیر میں آنے والے میں۔
پیارے دینی بھائیو! ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دشمنوں سے دشمنی اور ان کے دوستوں سے دوستی کرنا ہے تب ہم دونوں جہاں میں کامیاب ہوںگے ورنہ دونوں جگہ ہمارے لیے نقصان ہی نقصان ہے ہرگز ہرگز یہ محبت کی نشانی نہیں کہ محبوب کے دشمن سے دوستی اور ان کے دوست سے دشمنی کریں۔