میلاد شریف

میلاد شریف

وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِی اسْرآئِیلَ اِنِّی رَسُولُ اللّٰہِ اِلَیٓکُم مُصَدِّقاً لِّما بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ الَّتورٰۃِ وَ مُبَشِّراً بِرَسولٍ یَاتِیْ مِنْ بَعْدِی السْمُہٗ اَحْمَدٌ (پارہ ۲۸، رکوع۹)
ترجمہ: اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے نبی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور رسول کی بشارت سناتا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیںگے ان کا نام احمد ہے۔
برادران اسلام آیت کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نورانی وعظ ہے جسے وہ اپنی قوم بنی اسرائیل کو برسوں سناتے رہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس بیان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد کی خوشی آج سے ہزاروں برس پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے منائی اور بلا شبہ حضور اقدس ﷺ کی تشریف آوری باعث مسرت ہے اور اہل ایمان کے لیے خوشی منانے کا دن ہے لہذا سرور کائنات حضور ﷺ کی تاریخ پیدائش ایک مسلمان کے نزدیک سب سے بڑی عید کا دن ہے۔
علامہ اسمٰعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ آیت کریمہ محمد رسول اللہ کے تحت تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میلاد شریف کرنا بھی حضور اقدس ﷺ کی تعظیم ہے جب وہ منکرات سے خالی ہو امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے حضور انور ﷺ کی ولادت پر شکر کا اظہار کرنا مستحب ہے حافظ ابن حجر اور حافظ سیوطی نے میلاد کی اصل سنت سے ثابت کی ہے اور ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو کہ میلاد شریف کو بدعت سئیہ کہہ کر منع کرتے ہیں۔
حضور سیدِ عالم ﷺ کی پیدائش کے وقت ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے آکر ابولہب کو خبر دی کہ تیرے بھائی عبد اللہ کے گھر فرزند پیدا ہوئے ہیں ابولہب سن کر اتنا خوش ہوا کہ انگلی کا اشارہ کرکے کہنے لگا جا تو آج سے آزاد ہے سب مسلمان جانتے ہیں کہ ابولہب سخت کافر تھا قرآن میں اس کا ذکر ہے مگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت کی خوشی میں فائدہ ہوا مرنے کے بعد خواب میں دیکھا گیا تونے میرے لیے کوئی بھلائی نہیں کی سوائے اس کے جس انگلی سے ثوبیہ کو اشارہ کیا تھا اس انگلی سے پانی ملتا ہے جس سے میرے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے