حاضر و ناظر کا ثبوت
وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلَ عَلَیْکُمْ شَہِیْداًl (پارہ ۲،رکوع۱)
ترجمہ: اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ
برادرانِ اسلام! اس آیت کریمہ میں حاضر و ناظر کا ثبوت لفظ ’’شہید‘‘ سے دیا جاتا ہے کیونکہ شہید بھی حاضر ہے اور شہید کا معنی گواہی بھی ہے کوئی گواہی اسی وقت دے سکتا ہے جب محل وقوع پر حاضر ہو جب کوئی عدالت میں جج کے سامنے گواہی دینے حاضر ہوتا ہے تو جج سے کہتا ہے کہ میں اس واقعہ کا چشم دید گواہ ہوں اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے دیکھا نہیں ہے میں وہاں حاضر نہیں تھا بلکہ مجھے خبر لگی ہے یا میں نے دوسروں سے سنا ہے تو جج فوراً اس گواہ کو بھگا دیگا گواہی صرف وہی دے سکتا ہے جو واقعات کے رونما ہوتے وقت موجود ہو۔
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر عزیزی میں لکھتے ہیں حضور سیدِ عالم ﷺ اپنے نور نبوت کی وجہ سے ہر دیندار کے دین کو جانتے ہیں کہ دین کے کس درجہ تک پہنچا ہے اور اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے کونسا حجاب اس کی ترقی سے مانع ہے تو حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام تمہارے گناہوں کو تمہارے اخلاص اور نفاق کو پہچانتے ہیں لہذا ان کی گواہی دینا بحکم شرع امت کے حق میں قبول اور واجب العمل ہے سرور کائنات ﷺ ارشاد فرماتے ہیں اللہ عز و جل شانہ نے میرے لیے زمین سمیٹ کر رکھ دی پس میں اس کے پورب اور پچھم کو دیکھ رہا ہوں اس حدیث مبارکہ سے صاف ظاہر ہے حضور ﷺ کے سامنے ہر چیز ظاہر ہے دنیا میں کوئی ایسا ذرہ نہیں جو اس سے پوشیدہ ہو۔
خاتم الانبیاء ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے میرے لیے دنیا کو ظاہر فرمایا تو میں دنیا اور جو قیامت تک ہونے والا ہے سب کی طرف دیکھ رہا ہوں جیسے میں اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں کہ میں ہر مومن کی جان سے زیادہ قریب ہوں۔
شفا شریف میں قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں جب گھر میں کوئی نہ ہو تو نبی کریم ﷺ پر سلام عرض کرو اس سے ثابت ہوا کہ سرر کائنات ﷺ ہر جگہ موجود ہیں ورنہ سلام کرنے کا کیا معنی ہو سکتا ہے ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ سلام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی روح ہر اہل اسلام کے گھر حاضر ہے
پیارے دینی بھائیو! مذکورہ بالا احادیث سے ثابت ہو گیا کہ حضور ﷺ حاضر وناظر ہیں۔