قرآن مجید

قرآن مجید

الٓمٓl ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَاْ ریْبَ فِیْہِ۔ (پارہ ۱، رکوع۱)
ترجمہ: وہ بلند رتبہ کتاب کوئی شک کی جگہ نہیں۔
برادران اسلام خالق کائنات جل جلالہ نے خود ارشاد فرمادیا کہ قرآن کریم وہ مقدس کتاب ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ تمام سنی جانے والی باتوں میں زیادہ اہم دل کے لیے فائدہ مند ظاہر و باطن کے لیے ترقی کا سبب اور کانوں کے لیے کلام لذیذ قرآن مقدس ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں بہتر شخص وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور دوسرں کو سکھائے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسد دو شخصوں کے علاوہ کسی پر جائز نہیں ایک وہ شخص جس کو اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید کی توفیق عطا فرمائی اور وہ رات دن اس میں مشغول رہتا ہے دوسرا وہ شخص ہے جس کو اللہ عز و جل شانہ نے مال کثرت عطا فرمایا اور وہ رات دن اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے دو جہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسے کہ لوہے کو پانی لگنے سے زنگ لگ جاتا ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ اس کی صفائی کی کیا صورت ہے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن مقدس کی تلاوت کرنا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے بعض لوگ خاص گھر کے لوگ ہیں صحابۂ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کون لوگ ہیں؟ حضر ت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ قرآن شریف والے ہیں کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مخصوص لوگوں میں سے ہیں۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کریں جہاں ہم ہر کام کے لیے وقت نکالتے ہیں وہیں تھوڑا سا قرآن شریف کی تلاوت کے لیے نکالیں لیکن افسوس آج مسلمانوں کے پاس ٹی وی دیکھنے فضل گفتگو کے لیے وقت ہے لیکن قرآن شریف کی تلاوت کے لیے فرصت نہیں اللہ تعالی ہمیں قرآن شریف کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائے۔