ایمان کابیان

ایمان کابیان
انَّنِیْ اَناَ اللّٰہُ لَا اِلہَ اِلّا اَناَ فَاْعبُدْنِیْ و اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ  (پارہ۱۶،رکوع۱۰)
ترجمہ:بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔
پیارے دینی بھائیوں ایمان کے لغوی معنی ہے امن دینا اور شریعت میں ان اسلامی عقائد کا نام ہے جنہیں قبول کرکے انسان عذاب الٰہی سے محفوظ ہو جاتا ہے اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے ان میں سب سے بڑا اور پہلا رکن کلمہ طیبہ ہے جسے انسان پڑھ کر صاحب ایمان بنتا ہے کلمہ طیبہ کے دو جز ہیں پہلا جز ’’لاالہ الا اللہ‘‘ ہے اس میں اللہ عز و جل شانہ کی وحدانیت کا اقرار ہے اور تمام معبودان باطل کا انکار ہے اللہ تبارک و تعالی کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور خالق کائنات ہی عبادت و بندگی کے لائق ہے دوسرا جز ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے یعنی توحید کے ساتھ ساتھ اللہ کے پیارے حبیب  ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنا ہے اور اللہ کے سچے رسول ہونے کی گواہی دینا ہے اور دونوں جزوں کو دل و جان سے قبول کرنے کا نام ایمان ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور  ﷺ کجاوہ پر تھے اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ردیف تھے حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اے معاذ، عرض کیا حاضر ہوں یا رسول اللہ  ﷺ، فرمایا: اے معاذ، حاضر ہوں یا رسول اللہ  ﷺ، پھر فرمایا اے معاذ! عرض کیا حاضر ہوں یا رسول اللہ  ﷺ، پھر فرمایا کوئی شخص ایسا نہیں جو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد  ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں سچے دل سے مگر اللہ اسے آگ پر حرام فرمادے گا عرض کیا یا رسول اللہ  ﷺ تو کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دں کہ وہ خوش ہو جائیں تو وہ بھی بھروسہ کر بیٹھیںگے پھر حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے گناہ سے بچنے کے لیے اپنی وفات کے وقت خبر دی۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت سید المرسلین  ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر عمل کے پہنچنے کے لیے درمیان میں حجاب ہوتا ہے مگر لا الہ اللہ اور ماں باپ کی دعا کے لیے کوئی حجاب نہیں ہوتا۔