’’ سیدالشہداء امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہا دت کا مقصد

’’ سیدالشہداء امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہا دت کا مقصد

از قلم :مفتی محمد ابراہیم آسی ۔پرنسپل جامعہ قادریہ اشرفیہ ممبئی
شہزادہ ٔرسول، جگر گو شۂ بتول سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کی شان و شوکت ان کے مخلصانہ کر دار وسیرت کی عظمت اورشہادت عظمیٰ کی حقا نیت وصداقت دن بدن اہل فکر اور ارباب نظر پر واضح اور روشن ہو تی چلی جاری ہے یہی وجہ ہیکہ ہر کسی کی روح آپ پر قربان اورہر دل آپ کی ذات وشخصیت پر شیدا نظر آتا ہے اسی طرح جوں جوں زمانہ گزر تاجائیگا آئند ہ آپ کے نیاز مندوں اور عقید ت کے کیشوں کی تعداد بڑ ھتی چلی جا ئے گی ۔کسی نے خوب کہا ہے
ابھی انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے تھے حسین
اسلامی نیا سال محرم الحرام کا پہلا عشرہ ہے جو سید نا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ہمراہ بہتر دیگر نفوس قد سہ و ذکیہ ، اعوان وانصار کی عظیم قر بانیوں کی یا د دلاتاہے۔ محرم الحرام کاچاند دیکھا ئی دیا کہ دنیا کے کونے کونے اورہند وستان کے گو شے گوشے میں سید نا امام حسین اور ان کے جان شاروں کی یاد منا نا شرع ہو جا تا ہے مختلف بلا دوامصار میں مختلف انداز سے لوگ آپ کی یاد منا تے ہیں ۔جس کی ایک صورت یہ بھی ہو تی ہے کہ کثرت سے بڑے پیما نے پر بڑے شہروں میںخصو صیت کے سا تھ ممبئی عظمی میںدس روز ہ مجلس اورجلسوں کا اہتمام ہو تا ہے۔ جسمیں واعظین اور خطبا ء امام پاک کی سیرت پاک اور کار ناموں کا ذکر کر تے ہیں واقعات کر بلا کی تاریخ شہا دت کا پس منظر امام حسین اور ان کے رفقا و جان نثا روں پر گزر نے والےصبر آز ما مصا ئب و مشکلات، ظا لم یزید اور اس کے سا تھیو ں کی جانب سے مسلسل ڈھا ئے جا نے والے ستم و آزارکی تفصیل بیان کی جاتی ہے جو بلا شبہ حاضر ین وسا معین اور عقیدت مندوں کی عقیدت امام پاک کی ذات سے ان کے تعلق وقلبی لگا ئو میں اضا فہ کا باعث بنتا ہے۔
ہمارے واعظین وخطبا اور ذاکر ین محفل اور بانیا ں جلسہ اس ا عتبار سے قابل مبارک باد ہیں تاہم اس ضمن میں مزید ہم ان سے گزارش کر یں گے کہ امام پاک کی حیات کے متعد د گو شوں کو اجاگر کر تے ہو ئے آپ کر بلا کی شہادت کی مقصدیت اس کے وجو ہ واسباب اور مو زوںحقیقت پر بھر پور روشنی ڈالیں اورقوم کو باو ر کر ائیں کہ ا مام حسین رضی اللہ رعنہ نے غریب الو طن اور خستہ جان ہو کر کربلا کی سر زمین پر ہزاربلا ئو ں اور مصیبتوں میں گھر کر جو جنگ لڑی وہ ہر گز سیا سی نہیں تھی نہ ہی اس کے پیچھے کو ئی مادی منفعت کے حصول کا جزبہ کا ر فر ماتھا بلکہ وہ خالص اعلاء کلمتہ اللہ اور فروغ اسلام دین وشریعت کے احکام و حدود کی حفاطت اور تر ویج واشاعت کے لئے تھی ۔
دراصل یزید پلید نے سماج ومعا شرے میں اقتدا کے نشے میں گونا گوں طرح طرح کی جو برائیاں پھیلا رکھا تھا اس کے ازالے اور خاتمے کے لئے تھی۔ متعدد اور معتبر کتابوں سے یہ ثابت ہے کہ جب یزید حضرت معاو یہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد زبردستی مسلمانوں کاامیر وخلیفہ بن بیٹھا تو اس نے احکام اسلام کے اندرترمیم وتنسیخ اور من مانی شروع کر دیازنا جیسے قبیح اور خبیث فعل کو عام کیا اس کی سزاکو نظر انداز کر دیاناچ گانے بجا نے کو خوب رواج دیا۔فسق وفجورکی وباعام ہو گئی ۔عوام الناس گناہو ں پرجری ہو گئے اور جولوگ تھے جو تما شائی بنے ہو ئے تھے۔ اس کے ظلم وستم کے آگے سب خاموش بھیگی ــبلی بنے ہوئے تھے۔ اجلہ صحابہ کرام بھی موجود تھے مگر مجبور تھے ۔سید نا ابوہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یزید پلید کی خلافت وجانشینی سے پہلے ہی اپنی دعائو ں میں یو ںعر ض کر تے ۔
اللھم انی اعوذبک من اما رۃ الصبیان،آپ کی دعا قبول ہو گئی چنانچہ یزید کی خلافت کا تار یک دور آتے ہی آپ دنیا سے رخصت کر گئے مختصر یہ کہ یزید پلید کی وجہ سے اسلام اور اسلامی معاشر ے کی حالت نہ گفتہ بہ ہو گئی ۔
اسلام کا سورج امام حسین رضی اللہ عنہ کے گھر سے طلوع ہو اتھا دین وشریعت کے آفتاب کی کر نیں آپ ہی کے کا شانے سے نمودار ہوئی تھی ۔آپ پیغمبر اسلام کے فر زنداور اس وقت کےجانشین تھے ۔لہذا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے یزید پلید کے مقابلے میں آگئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سنت کوزندہ کر تے ہو ئے اعلان فر مایا۔ جب تک میں زندہ ہوںاسلام میں کسی طرح کی کو ئی تبدیلی اور کتر بیونت نہیں ہو سکتی ۔اسلامی حدود اور امانت الہیہ کی پامال میں جیتے جی دیکھوںیہ ناممکن ہے۔
چنانچہ آپ نے مٹھی بھر جان نثاروں کولے کر یزید ی باطل لشکر خبرار کا مقابلہ کیا اپنی اور جان نثاروں کی جان بھوکے پیاسے رہ کرکربلا کی دھر تی پر اسلام کے تحفظ کے لیے دن کے مختصر سے حصے میں قربان کر دیا اور قیامت تک کے لیے اسلام کی روح اور اس کی آ ن بان کو بچالیا۔ آج اسلام جو تر وتازہ ہر ابھرااور اپنے صحیح خد وخال کے ساتھ ہمیںدکھا ئی دے رہا ہے۔ یہ امام پاک ہی کی مجاہد انہ شان اور شہادت کا نتیجہ ہے۔ آج بھی ہمارے گر دوپیش اور ہمارے معاشرے اور سماج میں بلکہ پوری دنیا میں تما م برائیاں اور بے شمار خرابیاں پھیلی ہو ئی ہیں۔آج بھی ظلم و ستم کشت وخون کا بازار گرم ہے۔ عدم مساوات اونچ نیچ بھید بھائو ذاتی تفریق قومی عصبیت ناانصافی اورنا ہموار ی اور تنگ نظر ی پورے طور پر پائی جارہی ہے ۔
یزیدی فکر اور خیال کے لوگ آج بھی پائے جاتے ہیں ۔لہذا حق پر ستوں وفا شعاروں اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے غلاموں کا فرض بنتاہے کہ حسینی عزم کے ساتھ کھڑے ہو ں اورتمام برائیوں سے سماج کو پاک وستھر اکریں یزید یوں کو سبق سکھا ئیں پورے ملک اور ساری دنیا میں امن وشانتی کی فضاہموار کریں۔