انکساری
آپ کی انکساری سب سے نرالی تھی۔ حضرت اسرافیل نے آپ کی انکساری اور تواضع دیکھ کر فرمایا، یا رسول اللہ! آپ کی تواضع کے سبب اللہ تعالیٰ نے آپ کو جلیل القدر مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ آپ تمام اولاد آدم میں سب سے زیادہ بلند مرتبہ والے ہیں۔ میدان محشر میں سب سے پہلے آپ شفاعت فرمائیں گے۔
ایک شخص آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ،جلالت نبوت کی وجہ سے کانپنے لگا۔ آپ نے فرمایا تم بالکل مت ڈرو، میں نہ کوئی بادشاہ ہوں، نہ کوئی ظالم حاکم، میں تو قریش کی ایک عورت کا بیٹا ہوں۔حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ آپ گھریلو کام خود اپنے ہاتھ سےکر لیا کرتے تھے۔ اپنے خادموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ،خادموں کے کاموں میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔
حجۃ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ سے زائد فرزندان توحید کے سامنے تاجدار دو عالم ہونے کی حیثیت سے شہنشاہی خطبہ پڑھا ۔جسم پر ایک چادر تھی، جس کی قیمت چار درہم سے زیادہ نہ تھی۔ آپ کی اونٹنی پر ایک پُرانا پالان تھا۔
حضرت عبداللہ ابن عامر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ کی نعلین کا تسمہ ٹوٹ گیا ۔آپ درست کرنے لگے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں درست کر دیتا ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا یہ صحیح ہے کہ تم درست کردوگے مگر میں پسند نہیں کرتا کہ میں تم لوگوں پر اپنی برتری اور بڑائی ظاہر کروں۔
OOOOOOO