حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات

عبادات
بے شمار مشغولیت کے باوجود، اتنے عبادت گزار تھے کہ سابقہ انبیاء کرام کی زندگی میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ اعلان نبوت سے پہلےغار حرا میں عبادت کرتے تھے۔ نزول وحی کے بعد نماز کا طریقہ معلوم ہوا۔شب معراج میں نماز فرض ہوگئی، نماز پنج گانہ کے علاوہ نماز اشراق، نماز چاشت، تحیۃ الوضو، تحیۃ المسجد، صلوٰۃ الاوابین، نماز تہجد بھی ادا فرماتےتھے۔
راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر نمازیں پڑھتے، تمام عمر تہجد کے پابند رہے، نماز عشاء کے بعد کچھ دیر سوتے، پھر نماز پڑھتے، پھر سوتے پھر نماز پڑھتے صبح تک یہی حالت رہتی۔ لمبی لمبی سورتیں نمازوں میں پڑھا کرتے۔ نماز وتر نماز تہجد کے ساتھ ادا کرتے۔ رمضان کے آخری عشرہ میں آپ کی عبادت بڑھ جاتی تھی۔ گھر والوں کو نماز کے لئے جگایا کرتے۔عموماً اعتکاف کیا کرتے، کبھی بیٹھ کر، کبھی سربسجود ہوکر، کبھی قیام میں گڑ گڑا کر، امت کے لئے دعائیں مانگا کرتے تھے۔ رمضان میں حضرت جبرئیل کے ساتھ قرآن شریف کا دور کیا کرتے تھے۔
رمضان شریف کے روزوں کے علاوہ شعبان میں پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے۔ ہر مہینے میں ایام بیض یعنی چاند کی ۱۳،۱۴،۱۵؍ تاریخ کے روزے رکھتے تھے۔ دو شنبہ اور جمعرات کے روزے، عاشورہ کے روزے، عشرہ ذی الحجہ کے روزے، شوال کے روزے، آپ پابندی سے رکھا کرتے تھے۔ کبھی کبھی آپ صوم و صال (بغیر افطار کے مسلسل روزے) بھی رکھا کرتے تھے۔ مگر صحابہ کو صوم و صال رکھنے سے منع فرماتے۔
انبیاء کرام پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ آپ کے پاس مال اکٹھا ہوتا ہی نہیںتھا ۔جو آتا راہ خدا میں خرچ کردیتے۔ حضرت بلال حبشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ زیادہ ہی رقم آگئی، شام تک ختم نہ ہوئی، رات بھر مسجد نبوی میں ہی رک گئے، میں نے خبر دی یا رسول اللہ! ساری رقم خرچ ہوچکی ہے۔پھر آپ نے اپنے مکان میں قدم رکھا۔
آپ نے ۱۰ھ؁ میں مدینہ منورہ سے ایک حج فرمایا۔ جسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ حج کے علاوہ ہجرت کے بعد آپ نے مدینہ منورہ سے ۴؍ عمرے بھی ادا فرمائے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، آپ ہر لمحہ ذکر الٰہی میں مصروف رہتے، اُٹھتے، بیٹھتے، چلتے، پھرتے، سوتے، جاگتے وضو کرتے ،نیا کپڑا پہنتے، سواری پر چڑھتے اترتے، سفر کرتے، مسجد میں داخل ہوتے، بیت الخلا میں جاتے، آندھی، بارش، بجلی کڑکتے وقت دعائیں ورد زباں رہتی تھیں۔