شیر خوار بچے کا پیشاب

شیر خوار بچے کا پیشاب
ایک روز ام قیس نے ایک شیر خوار بچے کو آپ کی گود میں دیا ۔اس نے آپ کے کپڑے میں پیشاب کر دیا ۔آپ نے مسکراتے ہوئے اس پر پانی بہا دیا اور کچھ نہ کہا۔
حضرت ابو رافع کہتے ہیں ،میں بہت چھوٹا تھا ۔انصار کے درختوں پر ڈھیلے مارتا تھا۔ وہ مجھے آپ کی بارگاہ میں لے گئے۔ آپ نے پوچھا اے لڑکے! ڈھیلے کیوں مارتے ہو؟ میں نے کہا کھجوریں کھانے کے لئے ۔آپ نے فرمایا ڈھیلے نہ مارا کرو، جو نیچے گری ہوں انہیں کھا لیا کرو آپ نے میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور دعا فرمائی اے خدا اس کا پیٹ بھر دے۔