دسواں نکاح
آپ کا دسواں نکاح ۷ھ میں حضرت ام حبیبہ کے ساتھ ہوا۔ ان کا اصلی نام رملہ ہے، ام حبیبہ کنیت ہے، ان کے والد کا نام ابوسفیان ہے۔ جو سردار مکہ تھے، ان کی والدہ کا نام صفیہ بنت عاص تھا۔ جو حضرت عثمان غنی کی پھوپھی تھیں۔ ان کا نکاح پہلے عبداللہ بن جحش کے ساتھ ہوا تھا۔ دونوں میاں بیوی اسلام قبول کرکے ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تھے۔ ان کا شوہر مرتد ہوکر نصرانی ہوگیا۔ جب آپ کو خبر لگی دلی صدمہ ہوا ۔آپ نے عمر و بن امیہ کو نجاشی بادشاہ کے پاس بھیجا اور خط لکھا کہ میرا وکیل بن کر ام حبیبہ سے نکاح کرادو۔نجاشی بادشاہ نے ام حبیبہ کو خبر بھیجی ام حبیبہ نے اپنے ماموں زاد بھائی خالد بن سعید کو وکیل بنا کر نجاشی بادشاہ کے پاس بھیجا بادشاہ نے خود خطبہ پڑھا۔ چار سو دینار مہر طے کرکے اداکیا اور نکاح پڑھایا، ان سے ۶۵؍ احادیث مروی ہیں۔ ۴۴ھ میں مدینہ منورہ میں انتقال ہوا ۔جنت البقیع میں مدفون ہوئیں۔