جائیداد کیا تھی؟
آپ کی زندگی زاہدانہ تھی ،کچھ اپنے پاس رکھتے نہیں تھے۔ آپ کی جائداد میں ۳؍ چیزیں تھیں ،خیبر اور فدک کی زمین، سواری کا جانور، جنگ کے ہتھیار، خیبر اور فدک کے باغات کی آمدنی اپنی ازواج مطہرات کے سال بھر کے اخراجات فقراء اور غربا پر خرچ کرتے تھے۔ آپ کے وصال کے وقت ایک گھوڑا تھا جس کا نام لحیف تھا۔ ایک سفید خچر تھا جس کا نام دلدل تھا۔ دلدل پر حضرت علی نے جنگ خوارج میں سواری کی تھی۔ ایک عربی گدھا جس کا نام عفیر تھا ۔ایک اونٹنی تھی جس کا نام قصواء تھا۔ یہ وہی اونٹنی ہے جس کو ہجرت کے وقت آپ نے حضرت ابوبکر سے خریدی تھی۔ اسی اونٹنی پر آپ نے ہجرت فرمائی۔ اسی اونٹنی پر آپ نے حجۃ الوداع میں عرفات و منی میں خطبہ پڑھا۔
آپ کے پاس دس تلواریں، سات لوہے کی زرہیں، چھ کمانیں، ایک تیردان، ایک ڈھال، پانچ برچھیاں، تین جبے، ایک سیاہ رنگ کا جھنڈا، اور ایک خیمہ تھا۔
برتن میں ایک شیشے کا پیالہ، ایک لکڑی کا پیالہ، چمڑے کا ایک ڈول، ایک مشک، ایک چمڑے کا تھیلا، جس میں آئینہ، مسواک اور قینچی رکھتے تھے۔ ایک کنگھی، ایک سرمہ دانی، ایک بڑا پیالہ جس کا نام ’’الغرا‘‘ تھا ایک چار پائی۔ ایک بچھونا، ایک تکیہ جس میں کھجور کی جھال بھری ہوی تھی۔ مقدس جوتیاں، اس کے علاوہ آپ کا ایک کمبل حضرت عائشہ کے پاس تھا۔ جس میں آپ کا وصال ہوا تھا۔ ایک تلوار جس کا نام ذوالفقار تھا حضرت علی کے پاس تھی۔ یہی تلوار امام حسین کے پاس میدان کربلا میں تھی۔ آپ کی انگوٹھی اور عصا مبارک کو حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان بحیثیت جانشین ہونے کے اپنے دور خلافت میں اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔ مگر انگوٹھی حضرت عثمان کے ہاتھ سے بیئر اریس میں گر کر ضائع ہوگئی۔ یہ بیئر اریس، مسجد قبا سے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔
حضرت عثمان غنی عصائے نبوی کو اپنے ہاتھ میں لے کر مسجد نبوی میں خطبہ دے رہے تھے۔ اچانک کمبخت جہجاہ غفاری اُٹھا آپ کے ہاتھ سے لے کر توڑدیا۔ اس بے ادبی کی وجہ سے قہر الٰہی کا ،شکار ہوا ،اس کا ہاتھ سڑ گل کر ٹوٹ پڑا اور ہلاک ہوگیا۔