رفیق اعلی
۱۲؍ ربیع الاول بروز پیر، وفات کے دن طبیعت اچھی تھی۔ آپ نے حجرہ سے پردہ اُٹھا کر دیکھا لوگ نماز فجر ادا کر رہے ہیں۔یہ دیکھ کر آپ خوشی سے ہنس پڑے۔ لوگوں نے سمجھا آپ مسجد میں آنا چاہتے ہیں۔ سب بے قابو ہوگئے آپ نے اشارہ سے روکا اور حجرہ کا پردہ گرادیا ۔صحابہ کرام کے لئے جمال نبوت کی زیارت کا آخری موقع تھا۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ آپ کا چہرہ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا قرآن کا کوئی ورق ہے۔ اس کے بعد بار بار غشی کے دورے پڑنے لگے۔ حضرت فاطمہ نے کہا ہائے میرے ابو کی بے چینی!
آپ نے فرمایا اے بیٹی فاطمہ! آج کے بعد تمہارے ابو کبھی بے چین نہ ہوں گے۔ حضرت عائشہ نے مسواک نرم کرکے آپ کو دیا، آپ نے مسواک فرمائی۔ کلمہ پاک کا ورد کرتے چادر مبارک منہ پر ڈالتے کبھی ہٹا دیتے ۔حضرت عائشہ آپ کے سر مبارک کو گود میں لئے بیٹھی تھی۔ آپ نے ہاتھ اُٹھا کر انگلی سے اشارہ فرمایا اور تین مرتبہ کہا بل الرفیق الاعلی، اب مجھے بلند رفیق چاہئے۔ یہ الفاظ کہتے ہی آپ کی قدسی روح عالم قدس پہونچ گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ رب محمد صلی علیہ وسلم
نحن عباد محمد صلی علیہ وسلم