گیارہویںہجری کےحالات وواقعات
جیش اسامہ
۱۱ھ کا سب سے بڑا صدمہ جانکاہ یہ ہے کہ آپ دارفانی سے کوچ کرکے عالم قدس میں گئے۔
جیش اسامہ، آپ نے اپنی زندگی کی آخری فوج تیار کرائی، زید بن حارثہ جنگ موتہ میں شہید ہوگئے تھے۔ انتقام لینے کے لئے آپ نے حالت مرض میں فوج تیار کرنے کا حکم دیا ۔لشکر کا سپہ سالار، زید بن حارثہ کے لڑکے اسامہ بن زید کو مقرر کیا ۔حضرت اسامہ لشکر لے کر مقام جرف، تک پہونچ گئے ۱۱؍ربیع الاول کو آگے کوچ کرنے کا اعلان بھی فرما دیا ۔خبر ملی کہ آپ حالت نزع میں ہیں یہ سن کر حضرت اسامہ اور ابوعبیدہ مدینہ واپس آگئے۔ آپ کی نزع کی حالت کو دیکھتے ہوئے لشکر کو واپس مدینہ بلا لیا۔
ناساز طبیعت
۲۲؍ صفر ۱۱ھ کو آپ آدھی رات کو جنت البقیع قبرستان تشریف لے گئے وہاں سے واپسی پر آپ کی طبیعت ناساز تھی۔ دوشنبہ کے دن آپ کی بیماری بڑھ گئی سبھی ازواج کی اجازت سے آپ کا قیام حضرت عائشہ کے حجرہ میں ہوا ۔
جب تک چلنے کی طاقت رہی خود مسجد نبوی میں نمازیں پڑھاتے رہے، جب کمزوری زیادہ بڑھ گئی تو آپ نے حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ حضرت ابوبکر نے سترہ نمازیں پڑھائیں۔ ایک دن ظہر کی نماز کے وقت کچھ آرام ہوا تو حضرت علی اور حضرت عباس کا بازو تھام کر مسجد میں آئے ۔حضرت ابوبکر نماز پڑھا رہے تھے آہٹ پاکر پیچھے ہٹنے لگے، آپ نے اشارہ سے منع فرمایا حضرت ابوبکر کے پہلو میں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد آپ نے خطبہ دیا اور احکام اسلام بیان فرمایا اور سورہ عصر کی ایک آیت بھی تلاوت فرمائی۔
آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا سات دینار رکھے ہیں اسے لائو تاکہ راہ خدا میں خرچ کردوں۔ آپ نے ان دیناروں کو راہ خدا میں خرچ کردیا۔