اللہ کی کتاب

اللہ کی کتاب
۱۲؍ ذی الحجہ تک منی میں رہے،روزانہ سورج ڈھلنے کے بعد جمرات میں کنکری مارتے تھے۔ ۱۳؍ ذی الحجہ منگل کے دن سورج ڈھلنے کے بعد منیٰ سے روانہ ہوکر محصب میں رات ٹھہرے، صبح نمازِ فجر مسجد حرام میں ادا فرمائی، اور طواف وداع کرکے انصار و مہاجرین کے ساتھ مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ راستہ میں مقام غدیر پر آپ نے مختصر خطبہ دیا۔ حمد و ثنا کے بعد آپ نے فرمایا،
اے لوگو! میں بھی ایک آدمی ہوں ممکن ہے ملک الموت جلد آجائے اور مجھے اس کا پیغام قبول کرنا پڑے ،میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑتا ہوں ایک خدا کی کتاب، جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ دوسری چیز اہل بیت ،میں اہل بیت کے بارے میں تمہیں خدا کی یاد لاتا ہوں۔ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا من کنت مولا فعلی مولاہ میں جس کا مولا ہوں، علی بھی اس کا مولا ہے۔
ایک طویل سفر کے بعد آپ ذی الحلیفہ میں رات کو قیام فرمایا اور صبح مدینہ منورہ پہونچے۔