امیر الحج ،نقیب اسلام
اسی سال ۹ ھ غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد ذی قعدہ ۹ھ میں تین سو مسلمانوں کا قافلہ مدینہ منورہ سے آپ نے حج کے لئے مکہ روانہ کیا ۔حضرت ابوبکر کو امیرالحج ،حضرت علی کو نقیب اسلام، اور سعد بن ابی وقاص ،ابوہریرہ کو معلم مقرر کیا ۔اور اپنی طرف سے قربانی کے لئے بیس اونٹ بھیجے ،حضرت ابوبکر نے حرم کعبہ، عرفات ،منی ،میں خطبہ پڑھا۔ حضرت علی نے یہ اعلان کر دیا کہ اب کوئی مشرک خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ نہ کوئی برہنہ بدن طواف کر سکے گا۔
Post Views: 28