آیت تخییر کا نزول

آیت تخییر کا نزول
اسی سال آیت تخییر اور آیت ایلاء، نازل ہوئی یہ شریعت کے دو اصطلاحی الفاظ ہیں۔ شوہر اپنی بیوی کو اختیار دیدے کہ چاہے تو طلاق لے لے چاہے تو نکاح میں رہے۔ اس کو تخییر کہتے ہیں اور ایلاء یہ ہے کہ شوہر قسم کھالے کہ میں بیوی سے صحبت نہیں کروں گا۔
اسی سال آپ نے تمام ازواج مطہرات سے ناراض ہو کر ایک مہینہ کا ایلا فرمایا تھا۔
اسی سال آپ نے ماہ محرم میں زکاۃ کی وصولی کیلئے عاملوں کو مقرر کرکے مختلف قبیلوں میں روانہ فرمایا۔ ربیع الآخر ۹ھ؁ میں آپ نے حضرت علی کو ڈیڑھ سو ،سواروں کے ساتھ قبیلہ طی ،کے بت خانے کو گرانے کا حکم دیا۔ حضرت علی نے بُت خانہ کو گراکرکچھ اونٹ ،بکریوں کو پکڑا اور چند عورتوں کو گرفتار کرکے مدینہ منورہ لائے۔ ان قیدیوں میں حاتم طائی کی بیٹی بھی تھی۔
حاتم طائی کا بیٹا عدی بن حاتم ،بھاگ کر ملک شام چلا گیا۔ حاتم طائی کی بیٹی نے کہا یا رسول اللہ! میں حاتم طائی کی بیٹی ہوں میرے باپ کا انتقال ہو گیا ہے آپ مجھ پر احسان کیجئے ۔آپ نے انہیں چھوڑ دیا اور سفر کے لئے اونٹ بھی عنایت فرمایا وہ مسلمان ہو کر اپنے بھائی کے پاس پہونچی۔ آپ کے اخلاق حسنہ کو بیان کیا اپنی بہن کی زبانی آپ کے اخلاق کو سن کر کافی متاثر ہوا ،بارگاہ نبوت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کر لیا ۔عراق کی فتوحات اور دوسرے اسلامی جہادوں میں مجاہد کی حیثیت سے شریک ہوئے صحاح ستہ کی کتابوں میں آپ کی روایت کردہ حدیثیں موجود ہیں۔