ہم پر کون غالب آسکتا ہے ؟
فتح مکہ کے بعد آپ نے مکہ کا نظام چلانے کےلئے حضرت عتاب بن اسید کو مکہ کا حاکم مقرر کیا اور حضرت معاذ بن جبل، کو مسائل و احکام کی تعلیم دینے پر مامور فرمایا۔
جنگ حنین ،تاریخ اسلام میں مشہور جنگ ہے۔ جس کا ذکر سورۃ توبہ میں ہے۔
فتح مکہ کے بعد مقام حنین، میں دو قبیلہ ہوازن اور ثفیف نے یہ خیال کیا کہ اب ہم پر حملہ ہو گا۔ اس لئے انہوں نے جنگ کی تیاری شروع کر دی ۔ مکہ میں سب مسلمان اکٹھا ہیں وہیں حملہ کرکے سب کو ختم کر دیا جائے۔
حضرت عبداللہ بن ابی حدرد نے خبر دی کہ یا رسول اللہ! کفار نے جنگ کی مکمل تیاری کر لی ہے۔
آپ بھی ۸؍ شوال ۸ھ کو ۱۲؍ ہزار کا لشکر لے کر حنین کی طرف روانہ ہو گئے۔ جو مکہ اور طائف کے درمیان تھا۔ اسلامی لشکر کا جاہ و جلال دیکھ کر بعض صحابہ کی زبان سے بے اختیار نکل گیا ’’آج ہم پر کون غالب آسکتا ہے‘‘؟ کثرت فوج پر ناز کرنا قدرت کو گوارہ نہ تھی ۔اس کا انجام یہ ہوا کہ پہلے حملہ میں قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف کے تیراندازوں نے پسا کر دیا ۔اور مسلمان پیچھے ہٹ گئے۔ مگر آپ کے پائے استقلال میں جنش نہیں ہوئی، اور پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے ۔
آپ نے بلند آواز سے یہ کہا
’’انا النبی لاکذب ۔۔۔۔ انا ابن عبدالمطلب‘‘
میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔
آپ کو دیکھتے ہوئے اسلامی فوجیں پلٹ پڑیں اور جنگ کا پانسہ بدل گیا کفار بھاگ نکلے کچھ قتل ہوئے کچھ گرفتار ہوئے ۔کثیر تعداد میں مال غنیمت ہاتھ آیا۔ فتح مبین حاصل ہوئی۔
کفار، حنین میں شکست کھا کر کچھ اوطاس میں جمع ہوگئے کچھ طائف میں پناہ لئے۔ آپ نے ابو عامراشعری کی سپہ سالاری میں کچھ فوج کو اوطاس کی طرف سے روانہ کر دیا۔ ابوعامر اشعری کو ایک تیر لگا جس سے زخمی ہوگئے ابو موسیٰ اشعری نے اپنے چچا ابو عامر اشعری کو تیر مارنے والا کافر کو قتل کر دیا۔
تیر میں زہر تھا جس کی وجہ سے ابو عامر اشعری اچھے نہ ہوئے شہید ہوگئے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے جھنڈا ہاتھ میں لے لیا اور کفار کے سردار درید بن صمہ کو قتل کر دیا ،یہ دیکھ کر کافروں کی فوج نے ہتھیار ڈال دیا ،ہزاروں سے زائد کافر کو قیدی بنا لئے گئے ۔ان قیدیوں میں حضرت حلیمہ سعدیہ کی بیٹی آپ کی رضاعی بہن شیما بھی تھیں۔
جب گرفتار ہوئیں تو کہا کہ میں تمہارے نبی کی بہن ہوں۔ شناخت کے لئے آپ کی بارگاہ میں لائیں گئیں ۔آپ نے پہچان لیا ،جوش محبت میں آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ آپ نے اپنی چادر زمین پر بچھادی اور انہیں بٹھایا اور کچھ اونٹ اور بکریاں دے کر فرمایا تم آزاد ہو ،تمہارا جی چاہے تو میرے گھر چلو، چاہو تو اپنا گھر جائو،انہوں نے اپنے گھر جانے کی خواہش ظاہر کی تو ادب و احترام کے ساتھ ان کے قبیلے میں پہونچا دی گئیں