امان ہی امان
۲۰؍ رمضان کو آپ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔ آپ نے قدم رکھتے ہی اعلان کیا کہ جو شخص ہٹھیار ڈال دے اس کے لئے امان ہے۔ جو شخص اپنا دروازہ بند کرے اس کے لئے امان ہے۔ جو کعبہ میں داخل ہو جائے اس کے لئے امان ہے۔
آپ اپنی اونٹنی قصوا ،پر سوار تھے آپ کے سرپر سیاہ رنگ کا عمامہ تھا۔ ایک جانب حضرت ابوبکر دوسری جانب اسید بن حضیر تھے۔ آپ کے چاروں طرف ہتھیاروں سے لیس لشکر تھا ،یہ شان و شوکت دیکھ کر ابوسفیان نے حضرت عباس سے کہا اے عباس! تمہارا بھتیجا تو بادشاہ ہوگیا۔ حضرت عباس نے جواب دیا تیرا برا ہو، اے ابو سفیان! یہ بادشاہت نہیں بلکہ نبوت ہے۔
آپ تواضع و انکساری کے ساتھ اپنی اونٹنی پر سر جھکائے سورہ فتح کی تلاوت فرما رہے تھے ۔حضرت اسامہ بن زید کو اونٹنی پر بٹھا کر مسجد حرام کی طرف روانہ ہوئے ۔حضرت بلال اور کعبہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔اونٹنی کو بٹھایا کعبہ کا طواف کیا اور حجر اسود کو بوسہ دیا۔ خانہ کعبہ کے بتوں کو مار کرگراتے جاتے اورکہتے جاتے تھے جاء الحق و زھق الباطل۔
جب کعبہ بتوں سے پاک ہو گیا ۔آپ نے اندر قدم رکھا تمام گوشوں میں تکبیر پڑھی اور دو رکعت نماز ادا کی ،اور عثمان بن طلحہ کو بلا کر کعبہ کی کنجی عطا فرمائی۔ آپ نے دربار عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام فخر کی باتیں، تمام پرانے خونوں کا بدلہ ،جاہلیت کی تمام رسمیں ،سب میرے پیروں کے نیچے ہیں۔ تمام لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔ فتح مکہ کے دوسرے دن بھی آپ نے خطبہ دیا اور حرم کعبہ کے احکام و آداب کی تعلیم دی۔