فتح مکہ
اسی سال ۸ھ میں فتح مکہ ہوا ۔تاریخ اسلام میں یہ ایک روشن باب ہے۔ صلح حدیبیہ میں ایک شرط یہ تھی کہ فریقین میں کوئی بھی قبائل عرب کے ساتھ معاہدہ کرسکتا ہے۔ جو جس سے معاہدہ کرے وہ اس کاحلیف سمجھا جائے گا ۔قبیلہ بنی بکر نے قریش سے باہمی امداد کا معاہدہ کر لیا ۔اور قبیلہ بنی خزاعہ نے آپ سے امداد باہمی کا معاہدہ کر لیا۔ یہ دونوں قبیلے مکہ کے قریب ہی آباد تھے۔ دونوں قبیلے آپس میں عداوت رکھتے تھے ۔موقع پاکرقبیلہ بنی بکر نے قبیلے بنی خزاعہ پر حملہ کر دیا ،اور قریش نے اس کا ساتھ دیا قریش کی اس حرکت سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا اور یہی فتح مکہ کا سبب بنا۔
قبیلہ بنی خزاعہ کے تیس آدمی قتل کر دئے گئے ۔اس واقعہ کے بعد قبیلہ بنی خزاعہ کے سردار عمر و بن سالم خزاعی آپ کی بارگاہ میں مدد کے لئے مدینہ پہونچے آپ نے ایک قاصد مکہ بھیجا اس میں تین شرطیں رکھیں ،بنی خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا دیا جائے۔ قریش قبیلہ بنی بکر کی حمایت سے الگ ہو جائیں۔ اور یہ اعلان کر دیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔ قریش نے دو شرط ٹھکرا دی تیسری شرط قبول کی کہ ہاں حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔ قاصد کے چلے جانے کے بعد قریش کو اپنی جلدبازی پر ندامت ہوئی کہ اب مسلمان مکہ پر حملہ کر دیں گے۔
قریش نے ابو سفیان پر دبائو ڈالا ،مدینہ جاکر حدیبیہ کے معاہدہ کی تجدید کرے۔
ابو سفیان مدینہ آیا، اور اپنی بیٹی ام المومنین بی بی ام حبیبہ کے گھر پہونچا، جب بستر پربیٹھنا چاہا تو بستر اُٹھا دیا کہ یہ رسول اللہ کا بستر ہے۔ آپ مشرک ہیں اس کے لائق نہیں۔ ابو سفیان آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اپنا مقصد بیان کیا۔ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا ۔بارگاہ ابوبکر، عمر فاروق اور حضرت علی سے بھی کوئی جواب نہیں ملا، لاچار ابو سفیان نے مسجد نبوی میں اعلان کر دیا کہ میں نے معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کر دی ،مگر مسلمانوں میں سے کسی نے جواب نہیں دیا۔ ابو سفیان مکہ پہونچا قریش نے پوچھا کہ جب تم نے معاہدہ کی تجدید کی، تو مسلمانوں نے اسے قبول کیا؟ ابوسفیان نے کہا نہیں۔
آپ نے مسلمانوں کو جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا ،راز داری کے ساتھ تیاری فرمائی تاکہ اہل مکہ کو خبر نہ ہو۔
۱۰؍ رمضان ۸ھ کو آپ نے بارہ ہزار لشکر کا لے کر مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ سبھی روزہ سے تھے، مقام کدید میں آپ نے پانی منگوایا ،سواری پر بیٹھ کر تمام لشکرکو دکھا کر آپ نے پانی نوش فرمایا ،سب کو روزہ چھوڑنے کا حکم دیا۔
آپ اور تمام صحابہ نے سفر اور جہاد کی وجہ سے روزہ رکھنا موقوف کر دیا جب آپ مقام جحفہ پہونچے ،تو آپ کی خدمت میں آپ کے چچا حضرت عباس مع اہل و عیال موجود تھے جو پہلے ہی اسلام لا چکے تھے۔ مکہ سے ایک میل کے فاصلے پر ایک وسیع میدان میں پڑائو ڈالا آپ نے حکم دیا ہر مجاہد الگ الگ چولہا جلائے پورے میدان میں میلوں تک آگ ہی آگ نظر آنے لگی۔
ابو سفیان نے کہا میں نے زندگی میں اتنی دور تک پھیلی ہوئی آگ نہیں دیکھیں۔ ابو سفیان کی اسلام دشمنی کوئی چھپی چیز نہیں تھی، ابو سفیان اور آپ کے درمیان ایک مکالمہ ہوا پھر اسلام قبول کر لیا ۔آپ فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے ۔آپ کا جھنڈا حجون کے پاس گاڑا گیا۔ حضرت خالد بن ولید کو حکم دیا کہ وہ مکہ کی بالائی حصہ کدا ،کی طرف سے مکہ میں داخل ہوں۔